خبر رساں اشاعتی ادارے دی گارڈین کے مطابق ٹک ٹاک کے امریکی اثاثے 14 ارب ڈالر میں ایک نئے کنسورشیم کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس عمل کی قیادت سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی۔ اس فیصلے کو قومی سلامتی اور ڈیٹا پرائیویسی کا معاملہ قرار دیا گیا۔
مزید یہ کہ سال 2024 میں امریکی کانگریس نے ایک قانون منظور کیا جس کے مطابق چینی کمپنی بائٹ ڈانس کو ٹک ٹاک کے امریکی اثاثے فروخت کرنا لازم قرار دیا گیا تھا۔
اگر ایسا نہ ہوتا تو امریکا میں ایپ پر پابندی عائد کی جا سکتی تھی۔ 2025 کے آغاز میں امریکی سپریم کورٹ نے بھی اس قانون کو برقرار رکھا۔ ستمبر 2025 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اس قانون پر عملدرآمد کو ممکن بنایا اور بالآخر بائٹ ڈانس نے امریکی حصے کی فروخت پر رضامندی ظاہر کی۔
مزید براں امریکی قانون سازوں نے اسے چین کے ساتھ قومی سلامتی کا مسئلہ قرار دیا تاہم مبصرین کے مطابق اصل محرک ٹک ٹاک پر فلسطین سے متعلق آنے والا وہ مواد تھا جس نے اسرائیل کے خلاف امریکی رائے عامہ کو متاثر کیا۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق غزہ پر اسرائیلی حملوں کے دوران ٹک ٹاک پر شائع ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز نے لاکھوں امریکی نوجوانوں کو فلسطینی بیانیے سے روشناس کرایا۔ سینیٹر جوش ہالی اور مارکو روبیو نے ٹک ٹاک کو فلسطینی نواز اور اسرائیل مخالف قرار دیا۔
ٹرمپ کے منظور کردہ معاہدے کے تحت ٹک ٹاک امریکا کا انتظام سات رکنی بورڈ کے پاس ہو گا جس میں چھ امریکی ارکان شامل ہیں۔ ان کا تعلق سائبر سکیورٹی اور قومی سلامتی کے اداروں سے ہے جبکہ ایک رکن کنسورشیم ایم جی ایکس کی نمائندگی کرے گا۔
اس ڈیل کے مطابق بائٹ ڈانس کا حصہ 20 فیصد سے کم رہ گیا ہے۔ امریکی سرمایہ کاروں نے 65 فیصد سے زیادہ حصہ حاصل کیا ہے۔

ایم جی ایکس کے ذریعے اوریکل، سلور لیک، ابو ظہبی کے شاہی خاندان اور دیگر سرمایہ کار تقریباً 45 فیصد شیئرز کے مالک بنے ہیں۔ اوریکل کے شریک بانی لیری ایلیسن اس معاہدے میں مرکزی کردار کے حامل ہیں۔ وہ اسرائیل کے قریبی ترین سرمایہ کاروں میں شمار ہوتے ہیں۔
اوریکل کی چیف ایگزیکٹو سفرا کیٹس پہلے ہی واضح کر چکی ہیں کہ کمپنی میں صرف وہی ملازمین رہ سکتے ہیں جو اسرائیل کی حمایت کرتے ہوں۔ ایم جی ایکس میں ابو ظہبی کے ولی عہد کے بھائی شیخ طحنون بن زاید بھی شامل ہیں جنہوں نے اس منصوبے میں پندرہ فیصد سرمایہ کاری کی ہے۔
اس کنسورشیم میں فاکس نیوز کے مالک روپڑ مرڈوک، ڈیل ٹیکنالوجیز کے بانی مائیکل ڈیل اور دیگر اسرائیل نواز سرمایہ کار بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ معاہدے کے مطابق امریکی صارفین کا ڈیٹا اب اوریکل کے سرورز پر محفوظ ہو گا۔ ایپ کا ریکمنڈیشن انجن بھی امریکی کنٹرول میں آ چکا ہے۔ بائٹ ڈانس کی ٹیکنالوجی کو محدود کر کے اسے امریکا میں مکمل علیحدہ انداز میں چلایا جائے گا۔
ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں کے مطابق جس طرح میٹا اور دیگر پلیٹ فارمز پر فلسطینی مواد کو محدود کیا گیا اسی طرح اب ٹک ٹاک پر بھی ایسی سنسرشپ کا امکان ہے۔ ان خدشات کو اس وقت تقویت ملی جب نئے مالکان کی اسرائیل سے وابستگی کی تفصیلات سامنے آئیں۔
ظاہری طور پر صارفین کے تجربے میں فوری تبدیلی کی توقع نہیں ہے۔ ویڈیوز، تفریح اور دیگر مواد بدستور جاری رہے گا تاہم ماڈریشن کے طریقہ کار میں نمایاں فرق متوقع ہے۔ فلسطینیوں کے حق میں مواد اور اسرائیل پر تنقید کو مستقبل میں زیادہ سخت پالیسی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
واضع رہے کہ اب تک امریکی حکومت یا بائٹ ڈانس کی جانب سے اس ڈیل پر تفصیلی ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم صدر ٹرمپ نے اسے امریکی خودمختاری کی فتح قرار دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ معاہدہ مستقبل میں امریکا میں سوشل میڈیا کے سیاسی اثر و رسوخ کی نئی سمت کا تعین کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مشرق وسطیٰ اور امریکی سیاست میں سوشل میڈیا کے کردار پر بھی نئی بحث کا آغاز متوقع ہے۔







