کولمبو میں 27 سے 30 نومبر تک منعقد ہونے والے ورلڈ پاور ویٹ لفٹنگ مقابلوں میں مختلف ممالک کے 350 سے زائد ویٹ لفٹرز نے حصہ لیا، جہاں کاشف ریحان نے بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے 160 کلوگرام ڈیڈ لفٹ، 150 کلوگرام اسکواٹ کے ساتھ مجموعی طور پر 310 کلوگرام وزن اٹھا کر طلائی تمغہ اپنے نام کیا۔
نجی نشریاتی ادارے اے آر وائی نیوز کے مطابق کاشف ریحان مالی مشکلات کے باعث ادھار پیسے لے کر مقابلے میں شرکت کے لیے سری لنکا گئے تھے۔ اس سے قبل بھی انہیں بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے لیے شدید معاشی مسائل کا سامنا رہا۔
قطر میں ہونے والی ایشین ماسٹرز ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ 2024 میں بھی انہوں نے گولڈ میڈل جیتا تھا، تاہم اس ایونٹ میں شرکت کے لیے انہیں اپنی گاڑی فروخت کرنا پڑی تھی۔
کاشف نے انکشاف کیا تھا کہ انہیں دوحہ میں ہونے والے مقابلے کے لیے بھی سرکاری فنڈنگ فراہم نہیں کی گئی تھی اور اب سری لنکا میں ہونے والے پاور ویٹ لفٹنگ مقابلے میں بھی وہ قرض لے کر شریک ہوئے۔
مشکلات کے باوجود بین الاقوامی سطح پر مسلسل شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے کاشف ریحان نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستانی ایتھلیٹس ہمت اور جذبے کے ساتھ کھیل میدان میں نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔







