ذرائع کے مطابق حکومت نے 200 سے زائد افراد کے اجتماعات پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جس کا مقصد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا اور توانائی کے وسائل کے استعمال کو محدود کرنا ہے۔ اسی پالیسی کے تحت اسلام آباد میں 31 مارچ کو شیڈول پاکستان اور میانمار کے درمیان کوالیفائنگ میچ بند دروازوں کے پیچھے کھیلا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد کھلاڑیوں، آفیشلز اور متعلقہ عملے کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے، جبکہ قومی سطح پر جاری کفایت شعاری مہم کے تحت ایندھن کے استعمال میں بھی کمی لانا ہے۔

پاکستان فٹبال فیڈریشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ شائقین کی جانب سے میچ میں شرکت کے لیے غیر معمولی دلچسپی کو سراہتی ہے، تاہم موجودہ حالات کے پیش نظر یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔ فیڈریشن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں حالات بہتر ہونے پر شائقین کو دوبارہ اسٹیڈیم آنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

مزید بتایا گیا ہے کہ جن شائقین نے اس میچ کے لیے ٹکٹ خرید رکھے تھے، انہیں ان کی رقم خودکار طریقے سے اسی ادائیگی کے ذریعے واپس کر دی جائے گی جس سے ٹکٹ خریدے گئے تھے۔

اس نوعیت کے فیصلے عالمی سطح پر بھی دیکھنے میں آتے رہے ہیں، جہاں غیر معمولی حالات میں میچز کو محدود یا بند دروازوں کے پیچھے منعقد کیا جاتا ہے،اگرچہ شائقین کی عدم موجودگی سے کھیل کا ماحول متاثر ہوتا ہے، تاہم سیکیورٹی اور قومی مفاد کو ترجیح دینا ضروری ہوتا ہے۔

واضع رہے  کہ پاکستان کے لیے یہ میچ اہمیت کا حامل ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ قومی ٹیم شائقین کی غیر موجودگی کے باوجود بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔