سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں علی ترین نے لکھا کہ اس ٹیم کا حصہ ہونا میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہا ہے۔ میں شائقین سے محبت کرتا ہوں، میں اس ٹیم سے محبت کرتا ہوں اور جنوبی پنجاب کی نمائندگی کرنا ہمیشہ میرے لیے باعث فخر رہا ہے۔ یہ وہ چیز تھی جس پر میرے مرحوم چاچا عالمگیر ترین کو خاص طور پر فخر تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہر سیزن میں وہ کھلاڑیوں اور اسٹاف کو یہ باور کراتے رہے کہ شائقین آپ کو ہارنے پر معاف کر دیں گے لیکن اگر آپ مقابلہ کر ناروک دیں گے تو وہ کبھی معاف نہیں کریں گے۔ اسی سوچ نے ہر اس چیز کو شکل دی ہے جو ہم نے میدان کے اندر اور باہر کی ہے۔
To all Multan Sultans fans,
— Ali Khan Tareen (@aliktareen) November 25, 2025
Being part of this team has been one of the greatest honours of my life. I love the fans, I love this team, and I absolutely love being able to represent South Punjab. Something my late uncle Alamgir Tareen was especially proud of.
Every season, I…
انہوں نے پہلی بار واضح طور پر مالی مشکلات کا بھی ذکر کیا اور لکھا کہ سال به سال مالی نقصانات کے باوجود میں نے کبھی بھی چھوڑ کر جانے کے بارے میں نہیں سوچا۔ سلطانز میرے لیے ہمیشہ صرف اعداد و شمار سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور میں ہمیشہ اسے محفوظ رکھنے کے لیے جتنا بھی ضروری ہوا، کرنے کو تیار رہا ہوں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ میں جانتا ہوں کہ میں ہر کسی کو پسند نہیں ہوں اور مجھے اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں ہے لیکن میں ہمیشہ ایماندار رہا ہوں اور ہمیشہ اپنے ذہن سے رائے ظاہر کی ہے۔ میں نے بھی یہ نہیں سیکھا کہ محفوظ کھیلنا کیسا ہوتا ہے یا کسی کے کہنے پر چلن یا ماننا۔ یہ بات صاف ہے کہ میں ایسا نہیں ہوں۔
اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ اگر ٹیم کی ملکیت برقرار رکھنے کا مطلب اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کرنا ہے تو میرے پاس ایک ہی فیصلہ باقی رہ جاتا ہے۔ میں اس ٹیم کو اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر کھونا پسند کروں گا، نہ کہ گھٹنوں کے بل اسے چلاؤں۔ تو یہ الوداع ہے۔
آخر میں انہوں نے ملتان سلطانز کے مداحوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم ہمیشہ اپنے مالک سے بڑھ کر شائقین اور جنوبی پنجاب کی ہے۔ جو بھی سلطانز کا نیا مالک بنے، اسے اسی جذبے سے سپورٹ کرتے رہیں۔ آپ مجھے بھی شائقین میں بیٹھ کر اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھاتے دیکھیں گے۔






