تفصیلات کے مطابق احمد دونیمالی نے ایرانی سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ دشمن حکومت نے ہمارے قائد کو قتل کر دیا، فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے اپنی پوزیشن برقرار نہیں رکھ سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک دشمن ملک ورلڈ کپ کی میزبانی کر رہا ہے اور ہم فیفا سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس مسئلے پر ردعمل دے۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ ایرانی ٹیم کے ارکان وہاں محفوظ نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ 2026 کا فیفا ورلڈ کپ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر جون اور جولائی میں منعقد کریں گے۔

اس سے قبل فیفا کے سربراہ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ انہوں نے منگل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، جن کا کہنا تھا کہ ایران کی قومی ٹیم کا ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے خیرمقدم کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر مشترکہ حملے شروع کیے، جن میں آیت اللہ خامنہ ای اور 150 سے زائد اسکول کی طالبات سمیت اب تک تقریباً 1,300 افراد شہید ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب تہران نے اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملے کیے، جو امریکی فوجی اثاثوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور عالمی منڈیوں اور ہوائی سفر میں خلل پیدا کر رہے ہیں۔