ٹیلر فرٹز نے الیگزینڈر زویریو کو چھ تین اور سات چھ چار سے شکست دے کر ٹیم ورلڈ کے لیے لیور کپ جیت لیا۔
ایسوسیٹ آف ٹینس پروفیشنلز کے مطابق اس سے ایک دن قبل انہوں نے کارلوس الکاراز کو بھی ہرایا تھا۔ فرٹز کی ان دو کامیابیوں نے ٹیم ورلڈ کو پندرہ نو کی برتری دلائی۔ یہ لیور کپ کی تاریخ میں ٹیم ورلڈ کی چار سالوں میں تیسری فتح ہے۔
یہ میچ امریکی شہر سان فرانسسکو میں کھیلا گیا جہاں فرٹز نے ایونٹ کے مخصوص سیاہ کورٹ پر جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا۔ بیس لائن کے قریب کھیلتے ہوئے زویریو پر مسلسل دباؤ رکھا۔
دوسرے سیٹ میں چار تین کے اسکور پر زویریو نے واپسی کی کوشش کی لیکن فرٹز نے آخر میں میچ اپنے نام کیا۔
نئے ٹیم ورلڈ کپتان آندرے اگاسی کے لیے یہ کامیابی ان کے پہلے ہی ایونٹ میں حاصل ہوئی۔ فرٹز نے کہا کہ جب ایک لیجنڈ جیسے آندرے اگاسی آپ کے لیے خوشی سے کھڑے ہو کر نعرے لگا رہے ہوں تو خود بخود جوش آتا ہے اور آدمی پوری جان لگا دیتا ہے۔ فرٹز نے میچ میں 26 میں سے 23 نیٹ پوائنٹس جیتے اور ایک بیک ہینڈ والی سے میچ کا اختتام کیا۔
اتوار کے روز ابتدائی میچ میں الکاراز اور کیسپر روڈ نے مائیکل سن اور ریلی اوپیلکا کو سات چھ چار اور چھ ایک سے شکست دے کر ٹیم یورپ کو نو چھ تک واپس لے آئے تھے۔
الکاراز نے بعد ازاں فرانسسکو سیرونڈولو کو چھ دو اور چھ ایک سے شکست دے کر ٹیم یورپ کی امیدیں زندہ رکھیں۔ اس میچ میں الکاراز نے دونوں سیٹس کے آغاز میں پانچ پانچ گیمز جیت کر واضح برتری حاصل کی۔

ٹیم ورلڈ کی جانب سے الیکس ڈی مینار نے یاکوب مینسک کو چھ تین اور چھ چار سے شکست دے کر ٹیم ورلڈ کو بارہ چھ کی برتری دلا دی۔ اس میچ میں ڈی مینار نے تمام پانچ بریک پوائنٹس بچائے۔ انہوں نے کہا کہ میں روزانہ بریک پوائنٹس بچانے کا کام کرتا ہوں۔ میرے لیے یہ نیا نہیں ہے۔
ڈی مینار نے اس ایونٹ میں سات پوائنٹس جیتے جن میں زویریو کے خلاف سنگلز اور ہفتہ کو مائیکل سن کے ساتھ ڈبلز میں کامیابی شامل ہے۔ میں ہمیشہ اپنی ٹیم کے لیے پوری کوشش کرتا ہوں اور خوش ہوں کہ اس بار بھی کامیاب رہا۔
لیور کپ میں ہر روز جیت کے پوائنٹس کی قیمت مختلف ہوتی ہے۔ اتوار کو ہر فتح تین پوائنٹس کی حامل تھی۔ ٹیم ورلڈ نے ہفتے کو تمام میچز جیت کر نو تین کی برتری حاصل کی تھی۔
واضع رہے کہ آخری میچ میں فرٹز کی فتح نے ٹیم ورلڈ کو 15:9 کی برتری دلاتے ہوئے کپ ان کے نام کر دیا۔ ابھی تک یورپی ٹیم یا ٹورنامنٹ منتظمین کی جانب سے آئندہ حکمت عملی یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔







