قبائلی روایت اور فٹبال کا انوکھا امتزاج
انڈیا کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ کے ضلع چائباسا کے گاؤں تیریلباسا میں منعقد ہونے والے رنگیلا اسٹار تیریلباسا فٹبال ٹورنامنٹ میں 64 قریبی دیہاتوں کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ چار روزہ مقابلوں میں فاتح اور نمایاں کارکردگی دکھانے والی ٹیموں کو نقد انعام کے ساتھ کھسی (خصی بکرا) بھی انعام میں دیا گیا۔
فائنل میں این سی ایس ماؤڈی نے کمبارام کو ایک صفر سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔ فاتح ٹیم کو 15 ہزار انڈین روپے اور تین بکرے، جب کہ رنر اپ ٹیم کو 12 ہزار روپے اور دو بکرے دیے گئے۔ تیسری اور چوتھی پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں کو بھی نقد انعام کے ساتھ ایک، ایک بکرا ملا۔
فاتح ٹیم کے کپتان سچن دیوام نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم پہلی بار ٹورنامنٹ جیتی ہے اور اب پورا گاؤں مل کر بکرے کی دعوت کے ذریعے اس کامیابی کا جشن منائے گا۔
بکرا کیوں؟
ہو (Ho) قبائلی برادری کے لیے بکرا محض ایک جانور نہیں بلکہ ثقافت، مذہبی رسومات اور اجتماعی تقریبات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ٹورنامنٹ کے منتظمین کے مطابق ہر بڑی خوشی، مذہبی رسم یا اجتماعی تقریب میں بکرے کا گوشت لازمی سمجھا جاتا ہے، اسی لیے ٹرافیوں کے بجائے بکرے انعام میں دیے جاتے ہیں تاکہ کامیابی کا جشن صرف ٹیم نہیں بلکہ پورا گاؤں مل کر منا سکے۔
منتظم منیش کڈادا کے مطابق بعض ٹیمیں انعام میں ملنے والے بکرے ذبح کرکے دعوت کرتی ہیں، جب کہ کچھ انہیں یادگار کے طور پر پالنا بھی پسند کرتی ہیں۔
فیفا کے اصول، مگر مقامی انداز
اگرچہ ٹورنامنٹ میں فیفا کے قوانین کو بڑی حد تک مدنظر رکھا جاتا ہے اور ریاستی فٹبال ایسوسی ایشن سے منظور شدہ ریفری اور کمنٹیٹرز خدمات انجام دیتے ہیں، تاہم کئی مقامی روایات بھی برقرار رکھی گئی ہیں۔
ہر ٹیم میں 11 کے بجائے 9 کھلاڑی شامل ہوتے ہیں، جن میں کم از کم 6 کا ایک ہی گاؤں سے ہونا لازمی ہے تاکہ مقامی شناخت اور اتحاد برقرار رہے۔
اسی طرح آف سائیڈ کا قانون لاگو نہیں ہوتا اور کھلاڑی میدان کے کسی بھی حصے سے گول کرنے کے مجاز ہوتے ہیں۔
فٹبال، روزگار اور شناخت
چائباسا اور اس کے گردونواح میں مون سون کے موسم کے دوران درجنوں مقامی فٹبال ٹورنامنٹس منعقد ہوتے ہیں، جنہیں نوجوان اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بہترین موقع سمجھتے ہیں۔
اسی خطے سے تعلق رکھنے والی خاتون فٹبالر ملتی منڈا نے مقامی مقابلوں سے سفر شروع کیا، بعدازاں کولکتہ کی لیگز میں کھیلیں اور اب جھارکھنڈ ہوم گارڈ کی نمائندگی کر رہی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ انہی دیہی ٹورنامنٹس نے انہیں اعتماد، تجربہ اور شناخت دی، جہاں انہیں کئی بار نقد انعام کے ساتھ بکرے بھی ملے۔
سوشل میڈیا نے دی نئی پہچان
چائباسا کے ہریش ہیمبرم نے مقامی فٹبال میچوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا شروع کیں، جو بعد میں ان کے لیے روزگار کا ذریعہ بن گئیں۔
آج ان کے یوٹیوب چینل کے دو لاکھ سے زائد سبسکرائبرز ہیں، جب کہ وہ مقامی مقابلوں کی براہِ راست کوریج بھی کرتے ہیں اور کھیلوں سے متعلق اپنا کاروبار بھی چلا رہے ہیں۔
انڈیا میں فٹبال کا ایک مختلف چہرہ
اگرچہ عالمی سطح پر انڈیا کو کرکٹ کا ملک سمجھا جاتا ہے، لیکن جھارکھنڈ جیسے علاقوں میں فٹبال ایک ثقافتی روایت کی حیثیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ملک بھر میں ایسے سینکڑوں مقامی ٹورنامنٹس نوجوانوں کو کھیل سے جوڑنے، اپنی صلاحیتیں دکھانے اور اپنے گاؤں کی نمائندگی کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
چائباسا کا یہ منفرد ٹورنامنٹ اس بات کی مثال ہے کہ کھیل صرف مقابلے کا نام نہیں بلکہ مقامی ثقافت، سماجی رشتوں اور اجتماعی شناخت کو مضبوط بنانے کا بھی ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔







