چند روز پہلے تک یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ پاکستان یہ میچ نہیں کھیلے گا، جس سے شائقین میں بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ پھر حالات نے کروٹ لی، معاملات طے پائے اور بالآخر کھیلنے کا فیصلہ سامنے آ گیا۔

 یوں انکار کی فضا سے نکل کر معاملہ اقرار تک پہنچا اور اب فیصلہ میدان میں ہونا ہے، نہ کہ بیانات میں۔

 شائقینِ کرکٹ اس بات پر بضد ہیں کہ کھیل کو سیاست سے دور رہنا چاہیے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ کرکٹ دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ ہے، اسے تنازعات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔

کرکٹ کی جیت کے لیے پاکستان کو انڈیا جانا چاہیے اور انڈیا کو پاکستان آ کر کھیلنا چاہیے، ایک شائق نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ وہ بھارتی بلے باز ویرات کوہلی کو اپنی آنکھوں سے کھیلتا دیکھنا چاہتا ہے۔

پاکستان میٹرز کہ نامہ نگار فہد علی خان نے کرکٹ کے مداح سے سوال کیا کہ آج کا میچ  کون جیتے گا؟ 

جواب میں انہوں نے کہا کہ جیت اسی کی ہوگی جو بہتر کھیلے گا، البتہ پاکستانی ہونے کے ناطے ان کی دعائیں اپنی ٹیم کے ساتھ ہیں۔ 

کچھ شائقین نے خاص طور پر صاحبزادہ فرحان سے امیدیں وابستہ کیں اور یاد دلایا کہ وہ پہلے بھی بھارت کے خلاف اچھی کارکردگی دکھا چکے ہیں۔ اسی طرح سلمان علی آغا کی حالیہ فارم کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کہ انہوں نے اپنے کھیل میں واضح بہتری پیدا کی ہے۔ بابر اعظم اور شاہین آفریدی جیسے نام بڑے مقابلوں میں ہی پہچانے جاتے ہیں، اس لیے نظریں انہی پر رہیں گی۔

شائقین کا خیال تھا کہ اگر ابتدا میں انکار ہوا بھی تو اب سب سے بہتر راستہ یہی ہے کہ میدان میں اتر کر جواب دیا جائے۔ بیانات سے زیادہ اثر اسکور بورڈ کا ہوتا ہے۔ دباؤ اپنی جگہ، وقت کم سہی، مگر ایسے ہی مواقع اصل ٹیموں کی پہچان بنتے ہیں۔ آج جب دونوں روایتی حریف آمنے سامنے ہوں گے تو یہ مقابلہ صرف رنز اور وکٹوں کا نہیں ہوگا بلکہ اعصاب، حوصلے اور اعتماد کی بھی آزمائش ہوگا۔ 

 پاکستان یہ میچ جیتے یا انڈیا جیتا کرکٹ ہی ہوگی اور شائقین کو ایک یادگار مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔