ورلڈ رینکنگ میں 67ویں نمبر پر موجود کیپ وردے نے گروپ مرحلے میں شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے یورپی چیمپئن اسپین کو گول سے محروم رکھا اور تینوں گروپ میچز ڈرا کرکے آخری 32 مرحلے تک رسائی حاصل کی، جو خود ایک تاریخی کامیابی تھی۔

میامی میں کھیلے گئے ناک آؤٹ مقابلے میں لیونل میسی کی قیادت میں عالمی چیمپئن ارجنٹینا کو بھی کیپ وردے نے سخت امتحان میں ڈال دیا۔ 

میڈیا سے بات کرتے ہوئے انگلینڈ کے سابق  کھلاڑی گیری نیول نے کہا یہ کسی کمزور ٹیم کی جانب سے میری دیکھی ہوئی عظیم ترین کارکردگیوں میں سے ایک تھی۔ ارجنٹینا نے دو مرتبہ برتری حاصل کی، مگر کیپ وردے نے دونوں مواقع پر شاندار واپسی کرتے ہوئے مقابلہ برابر کیا اور میچ کو اضافی وقت تک لے گئی۔

تاہم اضافی وقت کے آخری لمحات میں بدقسمت ڈیفلیکشن کے باعث ارجنٹینا نے 3-2 سے کامیابی حاصل کرلی، جبکہ کیپ وردے صرف چند منٹ کی دوری پر تھا کہ میچ پنالٹی شوٹ آؤٹ تک پہنچ جاتا۔

کیپ وردے کے گول کیپر ووزینہا پورے ٹورنامنٹ میں اپنی شاندار گول کیپنگ کی بدولت نمایاں رہے۔ 40 سالہ ووزینہا نے ارجنٹینا کے خلاف آٹھ جبکہ مجموعی طور پر 18 شاندار سیوز کیے، جس کے بعد انہیں ورلڈ کپ کے بہترین گول کیپرز میں شمار کیا جا رہا ہے۔

کیپ وردے کے کوچ بوبسٹا نے کہا کہ ان کی ٹیم نے ثابت کردیا ہے کہ ایک چھوٹا ملک بھی دنیا کی بہترین ٹیموں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق، کھلاڑیوں نے اپنے ملک کے لیے تاریخ رقم کی ہے اور پوری قوم کو ان پر فخر ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں: رونالڈو کا نیا ریکارڈ: پرتگال نے کروشیا کو 2-1 سے ہرا دیا

سابق انگلش فٹبالرز گیری نیول اور ایان رائٹ نے بھی کیپ وردے کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے اسے ورلڈ کپ کی سب سے متاثر کن کہانی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ٹیم نے ثابت کیا ہے کہ اگر چھوٹے ممالک کو مواقع اور وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ بھی عالمی سطح پر بڑے کارنامے انجام دے سکتے ہیں۔

اگرچہ کیپ وردے کا ورلڈ کپ سفر اختتام پذیر ہوگیا، لیکن اس ٹیم نے اپنے جرات مندانہ کھیل، بے مثال جذبے اور غیرمتزلزل اعتماد سے دنیا بھر میں اپنی پہچان بنا لی ہے اور 2026 ورلڈ کپ کی یادگار ٹیموں میں اپنا نام درج کروا دیا ہے۔