محسن نقوی نے لاہور کے ایل سی سی اے گراؤنڈ میں جاری ریڈ بال کیمپ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف سے ملاقات کی اور تربیتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ میں اصلاحات کے لیے نئی پالیسیوں پر کام مکمل کیا جا رہا ہے، جن کے تحت ٹی ٹوئنٹی، ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ کے لیے الگ الگ حکمتِ عملی اختیار کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ سلیکشن کے عمل میں تقریباً 85 فیصد فیصلے ڈیٹا، فٹنس اور کارکردگی کی بنیاد پر کیے جائیں گے تاکہ انسانی مداخلت کو کم سے کم کیا جا سکے۔
چیئرمین پی سی بی نے واضح کیا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا سینٹرل کنٹریکٹ کے حصول کے لیے لازمی شرط ہوگی اور جو کھلاڑی مقررہ معیار پر پورا نہیں اترے گا، اسے سینٹرل کنٹریکٹ نہیں دیا جائے گا۔
PCB Chairman Mohsin Naqvi interacted with mediapersons in Lahore. pic.twitter.com/2G24xQ7615
— PCB Media (@TheRealPCBMedia) June 13, 2026
محسن نقوی نے بتایا کہ سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے پانچ نئی کیٹیگریز متعارف کرائی جا رہی ہیں، جبکہ ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے الگ ایمرجنگ پلیئرز کیٹیگری بھی قائم کی جائے گی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی تینوں فارمیٹس کی میچ فیس میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ڈومیسٹک کرکٹرز کی فیسوں میں اضافے پر بھی کام جاری ہے۔ ان کے مطابق قومی سطح پر آگے بڑھنے کے لیے ہر کھلاڑی کو فٹنس، ڈومیسٹک کارکردگی اور مجموعی پرفارمنس کے معیار پر پورا اترنا ہوگا۔
چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ تمام کھلاڑیوں کو مشاورت کے لیے طلب کیا گیا ہے کیونکہ وہ اس عمل کے اہم اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اصلاحات کے نتائج ایک سے دو سال میں سامنے آئیں گے اور پاکستان کرکٹ کو طویل المدتی بنیادوں پر مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سے متعلق سوال پر محسن نقوی نے کہا کہ اس بارے میں فیصلہ متعلقہ ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن حکام کریں گے۔
شاداب خان کی ممکنہ کپتانی کے حوالے سے انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا، جبکہ سرفراز احمد کو پاکستان کرکٹ کا اہم اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مستقبل کے کردار کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
محسن نقوی نے امید ظاہر کی کہ نئی پالیسیاں قومی ٹیم کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
اس موقع پر ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید، سابق کپتان مصباح الحق، سرفراز احمد، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور دیگر کوچز بھی موجود تھے۔






