ایشیا کپ 2025 کے سپر فور مرحلے میں آج ایک بار پھر روایتی حریف پاکستان اور انڈیا آمنے سامنے ہوں گے۔

یہ دونوں ٹیموں کا اس مرحلے میں پہلا مقابلہ ہے، جس نے دنیا بھر کے شائقین کرکٹ کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔

پچھلے اتوار پاکستان کو انڈیا کے ہاتھوں یکطرفہ شکست ہوئی تھی جس میں شروع سے آخر تک انڈیا کا پلڑا بھاری رہا۔

یہ پاکستان کی نئی اور عبوری ٹیم کا پہلا اصل امتحان تھا، جس نے جارحانہ بیٹنگ کا دعویٰ کیا تھا مگر کارکردگی توقعات پر پورا نہ اتر سکی۔

پاکستان سپر لیگ کی بنیاد پر منتخب ہونے والے نوجوان بیٹرز بین الاقوامی سطح پر تاثر قائم کرنے میں ناکام رہے۔

اس کے برعکس انڈیا گزشتہ ورلڈ کپ جیتنے کے بعد مسلسل شاندار فارم میں ہے۔ بارباڈوس میں ٹرافی اٹھانے کے بعد انڈیا نے 23 میں سے 20 ٹی ٹوئنٹی میچ جیتے۔ کوہلی، روہت شرما اور جدیجا جیسے عظیم کھلاڑیوں کے بعد ان کی نئی بیٹنگ لائن اور زیادہ جارحانہ ثابت ہو رہی ہے۔

Featured image (4)
انڈیا کے خلاف 63 ڈاٹ بالز کھیلنا اور 7 اوورز میں صرف 7 رنز بنانا ان کے مسائل کو واضح کرتا ہے۔ (فوٹو: کرک انفو)

پاکستان کی صورت حال مختلف ہے۔ گزشتہ ورلڈ کپ میں امریکا اور انڈیا سے شکست کے بعد گروپ مرحلے ہی میں ایونٹ سے باہر ہونا پڑا۔

اس کے بعد سے ان کی کارکردگی اُتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے، 15 میچ جیتے اور 15 ہارے۔ اس فارمیٹ میں یہ ان کی انڈیا کے خلاف لگاتار تیسری شکست تھی، اور ستمبر 2022 کے بعد پہلی بار وہ اپنے روایتی حریف کو ہرانے کی کوشش کریں گے۔

موجودہ ایشیا کپ میں پاکستان کی بیٹنگ سب سے بڑی کمزوری بن کر سامنے آئی ہے۔ اوسط 16.44 اور اسٹرائیک ریٹ محض 113.53 رہا، جو سپر فور میں جگہ بنانے والی ٹیموں میں سب سے خراب کارکردگی ہے۔

انڈیا کے خلاف 63 ڈاٹ بالز کھیلنا اور 7 اوورز میں صرف 7 رنز بنانا ان کے مسائل کو واضح کرتا ہے۔ حیران کن طور پر فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی بیٹنگ میں بھی نمایاں رہے اور دو میچز میں تیز رنز بنا کر ٹیم کو بہتر پوزیشن پر لے گئے۔

دوسری جانب باؤلنگ پاکستان کی طاقت بنی ہوئی ہے، خاص طور پر اسپنرز نے شاندار کردار ادا کیا۔ گروپ اسٹیج میں سب سے بہتر اوسط اور اکانومی ریٹ انہی کے نام رہا، اور سال کے آغاز سے اب تک 25 میچوں میں 147 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں، جن میں نصف سے زیادہ وکٹیں اسپنرز کے حصے میں آئیں۔

انڈیا کا کمبی نیشن اس وقت دنیا میں سب سے متوازن مانا جا رہا ہے۔ بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں میں اوسط کا فرق 12 رنز سے زیادہ ہے، جو کسی اور فل ممبر ملک سے کہیں بہتر ہے۔

Featured image (84)
ایشیا کپ کے اس مرحلے میں چاروں ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف کھیلیں گی اور سرفہرست دو ٹیمیں فائنل میں پہنچیں گی ۔ (فوٹو ایکس)

ان کے آل راؤنڈرز ٹیم کو مزید گہرائی دیتے ہیں اور کھیل کے کسی بھی مرحلے میں میچ کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پاکستان کے لیے سب سے بڑا سوال اوپننگ جوڑی ہے۔ صائم ایوب اور صاحبزادہ فرحان اب تک متاثر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

صائم نے 6 وکٹیں تو لی ہیں لیکن ابھی تک رنز بنانے میں ناکام ہیں، جبکہ فرحان کی اوسط اور اسٹرائیک ریٹ بھی تسلی بخش نہیں۔ اس صورتحال میں ٹیم انتظامیہ دباؤ میں ہے کہ آج کے بڑے میچ میں بیٹنگ لائن اپ کیسے کارکردگی دکھائے گی۔

ایشیا کپ کے اس مرحلے میں چاروں ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف کھیلیں گی اور سرفہرست دو ٹیمیں فائنل میں پہنچیں گی۔

اس کا مطلب ہے کہ پاکستان اور انڈیا لگاتار تین اتوار کو ایک دوسرے کے خلاف میدان میں اتر سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایشیا کپ کے فائنل میں دونوں ٹیمیں آج تک کبھی آمنے سامنے نہیں آئیں۔

یہ میچ صرف کھلاڑیوں کے درمیان مقابلہ نہیں بلکہ دونوں ممالک کی تاریخی رقابت اور سیاسی تناؤ کی وجہ سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اور شائقین کو یہ دیکھنے کا انتظار ہے کہ آیا پاکستان کی غیر متوقع ٹیم انڈیا کو حیران کر پائے گی یا نہیں۔