پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ 35 سالہ کھلاڑی کی موت خودکشی کی وجہ سے ہوئی ہے، تاہم حکام نے ابھی تک موت کی وجہ کی تصدیق نہیں کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق روہنی کی چھوٹی بہن روشننی نے ان کی لاش اپنے گھر کے اندر لٹکی ہوئی دیکھی اور فوری طور پر اہل خانہ کو آگاہ کیا۔ اسے قریبی اسپتال لے جایا گیا، جہاں پہنچنے پر ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک پولیس آفسر کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ سے ابھی تک کوئی خودکشی نوٹ برآمد نہیں ہوا ہے،جب کہ فرانزک ٹیموں نے اس کی موت کے تناظر کی شناخت کے لیے مقام سے شواہد بھی اکٹھے کیے ہیں۔
روہنی کی بہن نے میڈیا کو بتایا کہ وہ کام کی جگہ کے مسائل کی وجہ سے حالیہ ہفتوں میں کافی تناؤ کا شکار تھی۔وہ ایک پرائیویٹ اسکول میں مارشل آرٹس کی کوچ کے طور پر کام کر رہی تھی، مبینہ طور پر پرنسپل سمیت اسکول کی فیکلٹی کے کچھ اراکین کی جانب سے اسے ہراساں کیا جا رہا تھا۔
روشننی کا کہنا تھا کہ وہ اکثر اپنے کام کی جگہ پر ناروا سلوک کی شکایت کرتی تھی اور حالیہ دنوں میں بہت خوفزدہ تھی،ہفتے کے روز روہنی گھر والوں سے ملنے دیواس آئی تھیں، اتوار کی صبح روہنی نے معمول کی طرح ناشتہ کیا اس کے بعد کمرے میں جا کر فون پر بات کی اور پھر دروازہ لاک کرلیا۔
بعد ازاں روہنی کو اپنے کمرے میں لٹکا ہوا پایا گیا جس کے بعد انہیں قریبی اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔
واضح رہے کہ روہنی کلام ایک مشہور اسپورٹس پرسن تھیں جنہوں نے ایشین گیمز میں جوجسٹو مقابلوں میں انڈیا کی نمائندگی کی تھی اور مارشل آرٹس کے حلقوں میں اپنی کامیابی کے ساتھ ساتھ نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے انتھک کوششوں کے لیے مشہور تھیں۔
اُن کی موت نے سوشل میڈیا صارفین نے غم کا اظہار بھی کیا اور ساتھ ہی کھلی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔







