435 رنز کے عالمی ریکارڈ ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کی ٹیم پانچویں دن دوسری سیشن تک ڈٹ کر کھیلتی رہی، تاہم پوری ٹیم 352 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ اسکاٹ بولینڈ نے چائے سے قبل جوش ٹنگ کو آؤٹ کر کے میچ اور سیریز کا فیصلہ کیا۔

مچل اسٹارک نے میچ میں تین اہم وکٹیں حاصل کیں، جب کہ آسٹریلیا کے تجربہ کار کھلاڑیوں نے ایک بار پھر اپنی افادیت ثابت کر دی۔ 35 سالہ اسٹارک کا کہنا تھا کہ ٹیم کے سینیئر کھلاڑیوں پر تنقید پر وہ ہنستے ہیں کیونکہ انہوں نے ایک بار پھر میدان میں خود کو ثابت کیا ہے۔

انگلینڈ نے مسلسل چوتھے دورۂ آسٹریلیا میں تین ٹیسٹ میں ہی ایشز گنوا دی، جب کہ کینگروز کے خلاف ان کے آخری 18 ٹیسٹ میچز میں سے 16 میں شکست ہوئی ہے۔

پانچویں دن جب انگلینڈ کو فتح کے لیے مزید 228 رنز درکار تھے تو آسٹریلیا نے اپنے مرکزی فاسٹ بولرز کو آرام دیا اور نیتھن لیون اور کیمرون گرین سے بولنگ کا آغاز کروایا۔

انگلینڈ کے بلے باز ول جیکس اور جیمی اسمتھ نے کچھ مزاحمت دکھائی، تاہم دباؤ میں کھیلتے ہوئے اسمتھ 60 رنز بنا کر اسٹارک کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ ول جیکس بھی 47 رنز پر اسٹارک کی بولنگ کا شکار بنے، جن کا شاندار کیچ مارنس لبوشین نے سلپس میں لیا۔

بعد ازاں انگلینڈ کے نچلے درجے کے بلے باز زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے اور پوری ٹیم شکست سے دوچار ہو گئی۔

آسٹریلیا کے الیکس کیری کو پہلی اننگز میں سنچری اور دوسری میں نصف سنچری پر مین آف دی میچ قرار دیا گیا، جب کہ ٹریوس ہیڈ نے 170 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر فتح کی بنیاد رکھی۔ یہ ایڈیلیڈ میں ان کی مسلسل چوتھی ٹیسٹ سنچری تھی۔

مچل اسٹارک نے ٹریوس ہیڈ کو "ایڈیلیڈ کا بادشاہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹنگ دیکھنا شائقین کے لیے ایک شاندار تجربہ ہے۔

انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس نے شکست پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم اپنے ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہی، تاہم کچھ مثبت پہلو بھی سامنے آئے۔