40 سالہ موڈرک نے شکست کے باوجود ایک بار پھر اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے میچ میں آٹھ گیندیں واپس حاصل کیں، دو گول کے مواقع بنائے، 87 فیصد درست پاسز دیے، 66 بار گیند کو چھوا اور نو انفرادی مقابلوں میں کامیابی حاصل کی۔
موڈرک کا ورلڈ کپ کیریئر پانچ مختلف ایڈیشنز پر محیط رہا۔ انہوں نے 2006، 2014، 2018، 2022 اور 2026 کے عالمی کپ میں کروشیا کی نمائندگی کی۔ 2018 میں وہ اپنی ٹیم کو پہلی بار ورلڈ کپ فائنل تک لے گئے، جہاں انہیں ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیتے ہوئے گولڈن بال سے نوازا گیا، جبکہ 2022 میں ان کی قیادت میں کروشیا نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
اپنے ورلڈ کپ کیریئر میں موڈرک نے 23 میچ کھیلے، دو گول کیے اور دو گول کرانے میں بھی کردار ادا کیا، جس کے ساتھ وہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ میچ کھیلنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں مشترکہ طور پر پانچویں نمبر پر آ گئے۔
میچ کے بعد سب سے جذباتی منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب موڈرک اور ان کے سابق ریال میڈرڈ ساتھی کرسٹیانو رونالڈو نے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔ دونوں سپر اسٹارز نے برسوں تک ریال میڈرڈ کے لیے کھیلتے ہوئے متعدد چیمپئنز لیگ اور دیگر بڑے اعزازات جیتے، اور ان کا یہ الوداعی لمحہ شائقین کے لیے یادگار بن گیا۔
لوکا موڈرک نے اپنے بین الاقوامی کیریئر میں کروشیا کے لیے 202 میچز کھیلے، 29 گول اسکور کیے اور 32 اسسٹ کیے۔ 2018 میں وہ بیلن ڈی آر اور فیفا کے بہترین مرد فٹبالر کا ایوارڈ جیت کر کرسٹیانو رونالڈو اور لیونل میسی کی طویل عرصے سے قائم بالادستی ختم کرنے والے پہلے کھلاڑی بنے۔
مزید پڑھیں: انگلینڈ اور میکسیکو میچ کے ٹکٹس سونے سے بھی مہنگے
کلب فٹبال میں بھی موڈرک کا کیریئر بے مثال رہا، جہاں انہوں نے ریال میڈرڈ کے ساتھ چھ یوئیفا چیمپئنز لیگ، متعدد لا لیگا اور کلب ورلڈ کپ سمیت مجموعی طور پر 43 بڑی ٹرافیاں اپنے نام کیں۔
اگرچہ لوکا موڈرک نے ابھی قومی ٹیم سے ریٹائرمنٹ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا، تاہم پرتگال کے خلاف یہ مقابلہ ان کے بین الاقوامی کیریئر کا آخری میچ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو فٹبال ایک ایسے عظیم مڈفیلڈر کو الوداع کہے گا جس نے دو دہائیوں تک اپنے کھیل، قیادت اور غیرمعمولی صلاحیت سے دنیا بھر کے شائقین کے دل جیتے۔







