انڈیا اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں جاری آئی سی سی ویمنز ون ڈے ورلڈ کپ 2025 اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں پاکستان کی مہم 24 اکتوبر کو کولمبو میں اختتام پذیر ہوگی۔
سری لنکا سے میچ سے قبل پری میچ پریس کانفرنس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپنر سعدیہ اقبال کا کہنا تھا کہ ہاں، یہ ٹورنامنٹ ہمارے لیے خاصا چیلنجنگ رہا۔ کئی میچز بارش کی نذر ہوئے، مگر ہم آخری میچ میں اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے پُرعزم ہیں۔
سعدیہ اقبال کا کہنا تھا کہ ہم نے اسپنرز کے طور پر اچھی تیاری کی تھی، فاطمہ ثنا اور ڈیانا بیگ نے نئی گیند کے ساتھ زبردست شراکت داری بنائی۔ اسپنرز نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔
سعدیہ کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے ایک ہی شہر میں رہنا کوئی نیا تجربہ نہیں، پاکستان میں بھی ہم اکثر ایک ہی وینیو پر کھیلتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمیں اپنا برانڈ کھیلنا ہے اور کرکٹ سے لطف اندوز ہونا ہے۔
انہوں نے نوجوان ٹیم کے تجربے کو بھی امید افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہماری ٹیم میں کئی نوجوان کھلاڑی ہیں جو پہلی بار بڑے ٹورنامنٹ کا حصہ بنے۔ ان سب نے بہت کچھ سیکھا ہے اور اب وہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
کولمبو۔ آئی سی سی وویمنز کرکٹ ورلڈ کپ
— PCB Media (@TheRealPCBMedia) October 23, 2025
پاکستان وویمنز کرکٹ ٹیم کل سری لنکا کے خلاف اپنا آخری میچ کھیلے گی
میچ سے ایک روز قبل پاکستان ٹیم کا نائٹ ٹریننگ سیشن
پریما داسا انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں کھلاڑیوں کی پریکٹس
ہیڈ کوچ محمد وسیم کی نگرانی میں بیٹنگ۔ باولنگ اور فیلڈنگ… pic.twitter.com/otcm6RJK6V
خواتین کرکٹ کی تیز رفتار ترقی پر بات کرتے ہوئے سعدیہ نے کہاکہ دنیا بھر میں خواتین کرکٹ غیرمعمولی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ہم بھی کوشش کریں گے کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق اپنی سطح بہتر بنائیں۔
30 سالہ سعدیہ اقبال نے پانچ اننگز میں آٹھ وکٹیں حاصل کیں ہیں، اِن کے علاوہ کپتان فاطمہ ثنا دس وکٹوں کے ساتھ اس ایونٹ میں پاکستان کی کامیاب ترین بولر رہی ہیں، جب کہ ڈیانا بیگ نے بھی متاثرکن بولنگ کا مظاہرہ کیا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور سری لنکا کا یہ میچ پوائنٹس ٹیبل پر بڑی تبدیلی تو نہیں لا سکے گا، مگر قومی ٹیم کے لیے عزت اور وقار کی بحالی کا موقع ضرور ہوگا۔
یاد رہے کہ پاکستان ویمنز ورلڈ کپ 2025 میں چھ میچوں میں محض دو پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل میں آخری پوزیشن پر ہے۔
پاکستان کی مہم کا آغاز بنگلہ دیش کے خلاف سات وکٹوں سے شکست سے ہوا، جس کے بعد انڈیا کے ہاتھوں 88 رنز اور آسٹریلیا کے ہاتھوں 107 رنز سے ناکامی ملی۔ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے خلاف میچز بارش کی نذر ہو گئے، جب کہ جنوبی افریقہ نے پاکستان کو 150 رنز سے ہرایا تھا۔






