پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے بار بار دی جانے والی یقین دہانیاں اب تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکیں۔ پرو ہاکی لیگ کے لیے حکومت کی جانب سے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو 25 کروڑ روپے کی گرانٹ دی گئی تھی، جس کے بعد یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ کھلاڑیوں کو ڈیلی الاؤنسز کی ادائیگی کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

حکام کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ حکومتی فنڈز اس قدر موجود ہیں کہ کھلاڑیوں کے واجبات بآسانی ادا کیے جا سکتے ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔ 

قومی ٹیم کی ارجنٹائن روانگی سے قبل لاہور میں شیڈول ایک تقریب کے دوران جب کھلاڑیوں کی ادائیگیوں کے حوالے سے میڈیا نے سوال اٹھایا تو صدر پی ایچ ایف میر طارق بگٹی نے کہا تھا کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں اور جلد ہی کھلاڑیوں کو ادائیگی کر دی جائے گی۔

انہوں نے حکومت کی جانب سے 25 کروڑ روپے کی گرانٹ موصول ہونے کی تصدیق بھی کی تھی۔

نجی نشریاتی ادارے ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈیلی الاؤنس کے منتظر ایک کھلاڑی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مینجمنٹ کی یقین دہانیوں کے باوجود صورتحال جوں کی توں ہے۔

ان کے مطابق نومبر میں بنگلہ دیش کے دورے کے لیے لگائے گئے کیمپ کے ڈومیسٹک الاؤنسز اور وہاں کھیلے گئے میچز کے انٹرنیشنل الاؤنسز بھی تاحال ادا نہیں کیے گئے، جس کی وجہ سے کھلاڑی شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔

ذرائع کے مطابق ٹیم کے بیشتر کھلاڑی مالی مسائل سے دوچار ہیں۔ بعض کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ گھر والوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو گیا ہے، جب کہ ٹریننگ اور غذائی اخراجات کے لیے بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اس صورتحال نے ٹیم کے مجموعی مورال پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں، جو کارکردگی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن اور کھلاڑیوں کے ڈیلی الاؤنسز سے متعلق خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ متعدد مواقع پر واجبات کی ادائیگی کے دعوے کیے گئے، مگر تازہ اطلاعات کے مطابق کئی کھلاڑی اب بھی اپنے بقایاجات کے منتظر ہیں۔