میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلا دیشی کھلاڑیوں کو یہ این او سی نیوزی لینڈ کے خلاف آئندہ سیریز کے شیڈول کو مدنظر رکھتے ہوئے محدود مدت کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔ اس فیصلے کا مقصد کھلاڑیوں کو فرنچائز لیگ اور قومی ذمہ داریوں کے درمیان توازن فراہم کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسٹار فاسٹ بولر مستفیض الرحمٰن کو دو مختلف ادوار کے لیے این او سی دیا گیا ہے، جس کے تحت وہ 26 مارچ سے 12 اپریل تک اور پھر 24 اپریل سے 3 مئی تک پی ایس ایل میں شرکت کر سکیں گے۔ اس دوران انہیں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز سے چھوٹ بھی دی گئی ہے۔
بنگلا دیشی میڈیا کا کہنا ہے کہ دیگر کھلاڑیوں میں تنزید حسن، شرف الاسلام، ناہید رانا اور ریشاد حسین کو 12 اپریل تک لیگ میں کھیلنے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ آل راؤنڈر پرویز حسین کو 21 اپریل تک این او سی فراہم کیا گیا ہے۔
دوسری جانب نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کی تیاری کے لیے بنگلا دیش ٹیم کا تربیتی کیمپ 27 مارچ سے شروع ہوگا، تاہم پی ایس ایل میں شامل کھلاڑی اس کیمپ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ بورڈ حکام کے مطابق کھلاڑیوں کو خاص طور پر ون ڈے سیریز کے لیے دستیاب رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، کیونکہ یہ سیریز آئندہ عالمی مقابلوں کے تناظر میں نہایت اہمیت کی حامل ہے۔
مزید پڑھیں: قومی ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کو مکمل اختیار ہے، دباؤ کی پرواہ کیے بغیر فیصلے کریں: محسن نقوی
شیڈول کے مطابق نیوزی لینڈ اور بنگلا دیش کے درمیان ون ڈے میچز 17، 20 اور 23 اپریل کو کھیلے جائیں گے، جبکہ ٹی ٹوئنٹی سیریز 27 اپریل سے شروع ہو کر 2 مئی تک جاری رہے گی۔
کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل میں بین الاقوامی کھلاڑیوں کی شرکت لیگ کے معیار کو مزید بلند کرے گی، جبکہ بنگلا دیشی کھلاڑیوں کی جزوی دستیابی ٹیموں کی حکمت عملی پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ پی ایس ایل 11 میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے، جس سے ایونٹ کی مقبولیت اور مسابقت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔







