آئی سی سی کے مطابق بنگلادیش نے انڈیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے میچز کھیلنے سے انکار کرتے ہوئے اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس معاملے پر تین ہفتوں سے زائد عرصے تک تفصیلی مشاورت کی گئی، بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) سے مسلسل رابطہ رکھا گیا اور ان کے تمام تحفظات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

آئی سی سی کا کہنا ہے کہ بی سی بی کو مکمل یقین دہانیاں کرائی گئیں، تاہم بنگلادیش آئی سی سی پالیسی کے مطابق فیصلے پر عمل درآمد میں ناکام رہا، جس کے بعد حتمی قدم اٹھاتے ہوئے اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو نے ہفتے کی صبح آئی سی سی بورڈ کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ بنگلادیش کے مطالبات پالیسی کے دائرے میں نہیں آتے۔ یہ خط بی سی بی کے صدر امین الاسلام کو بھی ارسال کیا گیا، جو آئی سی سی بورڈ کے رکن ہیں۔

آئی سی سی کی جانب سے کرکٹ اسکاٹ لینڈ کو بھی باضابطہ دعوت نامہ ارسال کر دیا گیا ہے، تاہم کرکٹ اسکاٹ لینڈ کی چیف ایگزیکٹو کا فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکاٹ لینڈ کو یہ موقع ماضی کے آئی سی سی ایونٹس میں بہتر کارکردگی اور موجودہ عالمی درجہ بندی (14ویں نمبر) کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔ 2024 کے ورلڈکپ میں اسکاٹ لینڈ گروپ بی میں تیسری پوزیشن پر رہا تھا، جب کہ 2021 میں اسکاٹ لینڈ نے بنگلادیش کو شکست دے کر سب کو حیران کر دیا تھا۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلادیش کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے اور اسے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ بنگلادیش آئی سی سی میں برابر کی حیثیت کا ملک ہے، اگر پاکستان کے معاملے میں انڈیا کو رعایت دی گئی تو بنگلادیش کو بھی ملنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیم ٹی 20 ورلڈکپ کھیلنے انڈیا نہیں جائے گی، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ

محسن نقوی نے کہا کہ یہ دہرا معیار ہے، کوئی ایک ملک دوسروں کو ڈکٹیٹ نہیں کرسکتا۔ اگر ڈکٹیشن ہوئی تو پاکستان کا بھی ایک مؤقف ہوگا اور پاکستان اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔

چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت سے متعلق حتمی فیصلہ حکومت پاکستان کرے گی۔ وزیراعظم کی واپسی کے بعد مشاورت سے فیصلہ ہوگا، جس کے بعد پلان اے، بی اور سی تیار کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بنگلادیش نے انڈیا میں سکیورٹی خدشات کے باعث اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی تھی، جسے آئی سی سی نے چند روز قبل مسترد کر دیا تھا۔ مقررہ وقت میں معاملات حل نہ ہونے پر آئی سی سی نے بنگلادیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کرنے کا باقاعدہ اعلامیہ جاری کر دیا۔