ذرائع کے مطابق میلبرن رینیگیڈز کے کپتان وِل سدرلینڈ اور ٹیم کے کوچ نے محمد رضوان سے ذاتی طور پر معذرت کی اور اس فیصلے کو حالات کے تناظر میں کیا گیا ایک مشکل قدم قرار دیا۔ کپتان وِل سدرلینڈ کا کہنا تھا کہ محمد رضوان ایک اعلیٰ درجے کے اور تجربہ کار کھلاڑی ہیں، میچ ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا تھا تاہم وہ اپنے رویے اور فیصلے پر شرمندہ ہیں۔

واضح رہے کہ حالیہ میچ میں رضوان کو سست اسٹرائیک ریٹ کی بنیاد پر ریٹائرڈ آؤٹ کر کے ڈگ آؤٹ واپس بھیجا گیا تھا، جس پر شائقینِ کرکٹ نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پر مداحوں کی بڑی تعداد نے اس فیصلے کو غیر مناسب اور شرمناک قرار دیا اور رضوان کے ساتھ ناروا سلوک پر ٹیم مینجمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس معاملے پر محمد رضوان نے بھی اپنا مؤقف سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست نہیں کہ وہ بگ بیش لیگ چھوڑ کر وطن واپس آ رہے ہیں، بطور کھلاڑی کپتان کے فیصلے کو ماننا ان کی ذمہ داری ہے۔ رضوان کے مطابق ہمارا مذہب بھی امیر کی اطاعت کی تلقین کرتا ہے اور کرکٹ کے میدان میں کپتان ہی امیر ہوتا ہے، اس لیے انہوں نے فیصلے کو قبول کیا۔

مزید پڑھیں: بی پی ایل میں کھلاڑیوں کے بائیکاٹ سے میچ منسوخ، معاملہ کیا ہے؟

دوسری جانب کرکٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ریٹائرڈ آؤٹ جیسے فیصلے جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں حکمتِ عملی کا حصہ بن رہے ہیں، تاہم کسی سینئر اور بین الاقوامی شہرت یافتہ کھلاڑی کے ساتھ ایسا کرنا حساس معاملہ ہوتا ہے، جس میں بہتر کمیونیکیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق محمد رضوان جاری بی بی ایل سیزن میں بیٹنگ کے اعتبار سے مشکلات کا شکار رہے ہیں۔ انہوں نے اب تک 8 میچوں میں 167 رنز اسکور کیے ہیں، ان کی اوسط 20.88 رہی جبکہ وہ ایک بھی نصف سنچری بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

اس واقعے کے بعد میلبرن رینیگیڈز کی ٹیم مینجمنٹ اور رضوان کے درمیان معاملات بہتر ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے، تاہم یہ واقعہ بگ بیش لیگ کے رواں سیزن کے متنازع لمحات میں شامل ہو چکا ہے۔