ٹرینٹ برج میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کو جیت کے لیے 373 رنز کا ہدف دیا، تاہم میزبان ٹیم 212 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ یہ انگلینڈ کی سرزمین پر نیوزی لینڈ کی 20 ٹیسٹ سیریز میں صرف چوتھی فتح ہے، جب کہ 1999 کے بعد پہلی بار کیوی ٹیم نے 0-1 سے خسارے میں جانے کے باوجود سیریز جیتی۔

دوسری جانب انگلینڈ کو 2012 کے بعد پہلی مرتبہ اپنی سرزمین پر تین یا اس سے زائد ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

میچ سے ایک روز قبل 35 سالہ بین اسٹوکس نے اچانک بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلسل کرکٹ کی وجہ سے وہ ذہنی اور جسمانی طور پر تھک چکے ہیں، تاہم وہ کاؤنٹی کرکٹ میں ڈرہم کی نمائندگی جاری رکھیں گے۔

انگلینڈ کی دوسری اننگز میں بین اسٹوکس نے غیر معمولی انداز میں اوپننگ کرتے ہوئے صرف 20 گیندوں پر 30 رنز بنائے، لیکن وہ اپنی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے۔ جیمی اسمتھ نے 60 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی، تاہم انگلش ٹیم ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

نیوزی لینڈ کے باؤلرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ نیتھن اسمتھ نے اہم وکٹیں حاصل کیں، جبکہ مچل سینٹنر نے فیصلہ کن لمحات میں کامیابیاں سمیٹیں۔

اس سے قبل نیوزی لینڈ کی پہلی اننگز میں کپتان ٹام لیتھم نے 151 اور ڈیون کونوے نے 157 رنز کی شاندار اننگز کھیلتے ہوئے پہلی وکٹ پر 317 رنز کی شراکت قائم کی، جس کی بدولت کیوی ٹیم نے 438 رنز کا مضبوط مجموعہ بنایا۔

نیوزی لینڈ کے لیے کنکشن متبادل کے طور پر شامل ہونے والے زیک فولکس نے دونوں اننگز میں مجموعی طور پر 6 وکٹیں حاصل کرکے ٹیم کی تاریخی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔

یوں بین اسٹوکس کا 16 سالہ بین الاقوامی کیریئر شکست کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جبکہ نیوزی لینڈ نے تاریخی سیریز فتح کے ساتھ انگلینڈ کے دورے کا کامیاب اختتام کیا۔