اسٹوکس اور فاسٹ بولر گس اٹکنسن کو لندن کے ایک نائٹ کلب میں پیش آنے والے واقعے اور ٹیم کے کرفیو کی خلاف ورزی کی تحقیقات کے باعث دوسرے ٹیسٹ سے باہر رکھا گیا تھا۔ تاہم کرکٹ ریگولیٹر نے دونوں کو تشدد کے الزامات سے بری قرار دے دیا، جس کے بعد انہیں تیسرے ٹیسٹ کے لیے اسکواڈ میں شامل کر لیا گیا ہے۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی انضباطی کارروائی میں دونوں کھلاڑیوں کو معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے تحریری وارننگ جاری کی گئی۔
بین اسٹوکس نے کہا کہ بطور کپتان ان کی پہلی ذمہ داری ٹیم سے معذرت کرنا تھی، کیونکہ اس صورتحال نے نہ صرف انہیں بلکہ پوری ٹیم اور خاص طور پر ڈیبیو کرنے والے کھلاڑیوں کو متاثر کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک لیڈر کے طور پر اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرنا ضروری ہے اور انہوں نے یہی کیا۔
اس دوران اسٹوکس اور ہیڈ کوچ برینڈن میک کولم کے تعلقات سے متعلق قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں، تاہم دونوں نے اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے اپنے مضبوط تعلقات کا اعادہ کیا۔
اسٹوکس کا کہنا تھا کہ وہ اور میک کولم تحقیقات کے دوران مسلسل رابطے میں رہے اور اس مشکل وقت نے ان کے تعلقات کو مزید مضبوط کیا۔
مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیموں میں واحد خاتون :’قابلیت کی کوئی جنس نہیں ہوتی
انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان تین میچوں کی سیریز اس وقت 1-1 سے برابر ہے، جبکہ فیصلہ کن تیسرا ٹیسٹ جمعرات سے ٹرینٹ برج میں شروع ہوگا۔ اسٹوکس نے کہا کہ اب ان کی اور گس اٹکنسن کی مکمل توجہ میدان میں بہترین کارکردگی دکھانے پر مرکوز ہے۔







