ڈھاکا ٹیسٹ میں پاکستان کی جانب سے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم ابتدائی دو روز میں یہ حکمت عملی پاکستانی ٹیم کے لیے زیادہ مؤثر ثابت نہ ہو سکی۔ بنگلہ دیشی بیٹرز نے ذمہ دارانہ اور محتاط بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی بولرز کو طویل وقت تک وکٹ سے دور رکھا۔
بنگلہ دیش کے کپتان نجم الحسن شانتو نے ایک مرتبہ پھر اپنی کلاس ثابت کرتے ہوئے شاندار سنچری اسکور کی۔ انہوں نے 101 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیل کر ٹیم کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ ان کے علاوہ تجربہ کار بلے باز مومن الحق بھی سنچری کے قریب پہنچے تاہم وہ 91 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔
مڈل آرڈر میں مشفیق الرحیم نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی بولرز کا بھرپور مقابلہ کیا۔ وہ دوسرے روز کھیل ختم ہونے تک 71 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے اور ٹیم کو بڑے مجموعے کی جانب لے جا رہے ہیں۔ لٹن داس نے بھی اہم اننگز کھیلتے ہوئے 33 رنز اسکور کیے، تاہم محمد عباس نے انہیں پویلین واپس بھیج دیا۔
Day 2 Pitch Report From SBNCS,Dhaka pic.twitter.com/7bONxwoBVZ
— Bangladesh Cricket (@BCBtigers) May 9, 2026
پاکستانی بولنگ اٹیک میں تجربہ کار فاسٹ بولر محمد عباس سب سے نمایاں رہے، جنہوں نے بہترین لائن اور لینتھ کے ساتھ بولنگ کرتے ہوئے 4 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ شاہین شاہ آفریدی، حسن علی اور اسپنر نعمان علی نے ایک، ایک وکٹ اپنے نام کی، تاہم مجموعی طور پر پاکستانی بولرز بنگلہ دیشی بیٹرز پر دباؤ برقرار رکھنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
میچ کے دوران بنگلہ دیشی ٹیم نے محتاط مگر مثبت انداز اپنایا اور 109 اوورز میں 380 رنز بنا کر رن ریٹ 3.48 رکھا، جو ٹیسٹ کرکٹ میں ایک متوازن اور مضبوط کارکردگی تصور کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ پہلے روز پاکستان صرف 4 وکٹیں حاصل کر سکا تھا جبکہ بنگلہ دیش نے محتاط آغاز کے بعد میچ میں گرفت مضبوط کر لی تھی۔ دوسرے روز کھیل کے آغاز پر مشفیق الرحیم 48 اور لٹن داس 8 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے، جس کے بعد دونوں نے اہم شراکت قائم کی۔
اگر پاکستان کو میچ میں واپسی کرنا ہے تو تیسرے روز جلد از جلد باقی وکٹیں حاصل کرنا ہوں گی تاکہ بنگلہ دیش کو بڑے مجموعے سے روکا جا سکے۔ دوسری جانب میزبان ٹیم کی کوشش ہوگی کہ پہلی اننگز میں 450 سے زائد رنز بنا کر پاکستان پر دباؤ بڑھایا جائے۔







