میچ کے دوران پاکستانی اننگز کے 39ویں اوور میں ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا۔ اسپنر مہدی حسن کی گیند پر محمد رضوان نے دفاعی انداز میں سیدھا شاٹ کھیلا۔ گیند بولر کی جانب گئی اور اس کے پاؤں سے ٹکرا گئی۔ اس دوران نان اسٹرائیکر اینڈ پر موجود سلمان علی آغا کریز سے باہر آ چکے تھے۔
Not your everyday run out for sure #BANvPAK pic.twitter.com/2OffYG3WcI
— ESPNcricinfo (@ESPNcricinfo) March 13, 2026
سلمان علی آغا نے کریز سے باہر رہتے ہوئے گیند اٹھا کر مہدی حسن کو واپس دینے کی کوشش کی، تاہم مہدی حسن نے گیند سلمان سے پہلے پکڑ کر وکٹوں پر دے ماری، جب کہ سلمان ابھی تک کریز سے باہر تھے۔ اس صورتحال پر معاملہ تھرڈ امپائر کے پاس بھیجا گیا، جس نے قوانین کے مطابق سلمان علی آغا کو رن آؤٹ قرار دے دیا۔
آؤٹ ہونے کے بعد پویلین واپس جاتے ہوئے سلمان علی آغا نے شدید ناراضی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر بنگلہ دیشی وکٹ کیپر لٹن داس بھی ناراض دکھائی دیے، تاہم محمد رضوان، امپائر اور ساتھی کھلاڑیوں نے سلمان آغا کو سمجھا بجھا کر ان کا غصہ ٹھنڈا کیا۔
اس متنازع رن آؤٹ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی، جس کے بعد سابق کرکٹرز اور شائقین کرکٹ نے بنگلہ دیشی کپتان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اس عمل کو اسپورٹس مین اسپرٹ کے خلاف قرار دیا۔
Poor sportsmanship from captain Bangladesh Mehidy Hassan Miraz #PakvsBan pic.twitter.com/9Tk9RbItf3
— Mohammad Hafeez (@MHafeez22) March 13, 2026
میچ کے دوران کمنٹری کرتے ہوئے سابق پاکستانی کپتان رمیز راجہ نے بھی اس واقعے پر تبصرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی قوانین کے مطابق سلمان علی آغا واقعی رن آؤٹ تھے، لیکن کھیل کے جذبے کے لحاظ سے یہ افسوسناک ہے کیونکہ وہ گیند اٹھا کر بولر کو واپس دینے ہی والے تھے، مگر بولر نے موقع دیکھ کر رن آؤٹ کر دیا۔
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد حفیظ نے بھی اس واقعے پر بنگلہ دیشی کپتان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
واضح رہے کہ دوسرے ون ڈے میچ میں پاکستان نے بنگلہ دیش کو جیت کے لیے 275 رنز کا ہدف دیا۔ پاکستانی ٹیم 48ویں اوور میں 274 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔






