عالمی خبررساں اداروں کے مطابق یہ اقدام اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چار انڈین ملکیت والی فرنچائزز مانچسٹر سپر گیانٹس، ایم آئی لنڈن، ساؤتھرن بریو اور سن رائزرز لیڈز  جاری جغرافیائی کشیدگی کے باعث پاکستانی کھلاڑیوں کو سائن کرنے پر غور نہیں کریں گی۔

ای سی بی نے ای میل کے ذریعے خبردار کیا ہے کہ اگر قومیت کی بنیاد پر کسی کرکٹر کو نظر انداز کرنے کے شواہد ملے تو معاملہ آزاد کرکٹ ریگولیٹر کے پاس بھیجا جا سکتا ہے، جب کہ بورڈ خود بھی الگ کارروائی کا اختیار رکھتا ہے۔

11 سے 12 مارچ کو لندن میں ہونے والی نیلامی کے لیے مجموعی طور پر 67 پاکستانی کھلاڑی (63 مرد اور 4 خواتین) نے رجسٹریشن کروائی ہے، جن میں شاہین شاہ آفریدی، شاداب خان، حارث رؤف اور نسیم شاہ شامل ہیں۔

گزشتہ سیزن میں کوئی پاکستانی کھلاڑی منتخب نہیں کیا گیا تھا، تاہم محمد عامر اور عماد وسیم کو متبادل کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔

2009 کے بعد سے پاکستانی کھلاڑیوں پر انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں شرکت پر پابندی عائد ہے۔ اس کے علاوہ آئی پی ایل مالکان کی دیگر لیگز جیسے ایس اے20 اور آئی ایل ٹی20 میں شمولیت کے باعث پاکستانی کھلاڑیوں کے مواقع مزید محدود ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’دی ہنڈرڈ‘ میں انڈین ملکیت والی فرنچائزز میں پاکستانی کرکٹرز کی شمولیت مشکوک، سابق انگلش کپتان نے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

انگلینڈ کے وائٹ بال کپتان ہیری بروک نے کہا کہ پاکستان ایک عظیم کرکٹ ملک ہے اور اس کے کھلاڑی ٹورنامنٹ کا معیار بلند کرتے ہیں، پاکستانی کرکٹرز کی عدم شمولیت  افسوسناک  ہوگی۔

دی ہنڈریڈ کا نیا سیزن 21 جولائی سے 16 اگست تک جاری رہے گا، تاہم اسی دوران پاکستان کے ویسٹ انڈیز اور بعد ازاں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچز بھی شیڈول ہیں، جو دستیابی کے حوالے سے ایک اہم عنصر ہو سکتے ہیں۔