انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق عرفان بھٹ نے جموں و کشمیر چیمپئنز لیگ کے ایک میچ کے دوران اپنے ہیلمٹ پر فلسطینی پرچم کا اسٹیکر لگایا ہوا تھا۔ یہ میچ گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر کے کے سی اسپورٹس کلب میں منعقد ہوا، جس کے بعد معاملہ تنازع کا شکار ہو گیا۔
- Cricketer Furqan Bhatt wore a helmet displaying the Palestinian flag in J&K Champions League
— BALA (@erbmjha) January 1, 2026
- He was summoned by police & later banned from the league
Divided by borders, United by Ummah & Terrorism 🤲🏻 pic.twitter.com/x9ACLNnF14
پولیس کا کہنا ہے کہ لیگ کے منتظم زاہد بھٹ اور میچ کے لیے گراؤنڈ فراہم کرنے والے شخص کو بھی پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا جائے گا، جب کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ منتظمین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں اس اسٹیکر کے بارے میں پیشگی علم نہیں تھا۔
انڈین میڈیا کے مطابق واقعے کے بعد مسلمان کرکٹر فرقان بھٹ پر آئندہ لیگ میچز کھیلنے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ میچ کے دوران فلسطینی پرچم استعمال کرنے کے پیچھے کیا مقصد تھا۔معاملہ سامنے آنے پر بی جے پی کے رکنِ پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال بھی برہم ہو گئے۔
J&K Champions League | Row Over Palestine Flag On Cricketer s Helmet, Furqan Bhat Has Been Summoned By The Cops @gargirawat pic.twitter.com/ghz35sMQH6
— NDTV (@ndtv) January 1, 2026
انڈین میڈیا کے مطابق بی جے پی ایم پی نے کہا کہ اگر کوئی انڈیا میں رہنا چاہتا ہے تو اسے انڈین پرچم لہرانا ہوگا، فلسطینی پرچم لہرانے والوں کو انڈیا سے محبت کرنے والا نہیں سمجھا جا سکتا۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ انڈیا کے اس دوہرے معیار کو واضح کرتا ہے جہاں ایک جانب آزادی اظہار کے دعوے کیے جاتے ہیں، جب کہ دوسری جانب فلسطینی عوام کے حق میں ایک علامتی اظہار بھی برداشت نہیں کیا جاتا، خاص طور پر جب اس کا تعلق مسلمانوں سے ہو۔






