48 ٹیموں پر مشتمل اس میگا ایونٹ میں دنیا کے بہترین فٹبالرز اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے میدان میں اتریں گے، تاہم شائقین کی نظریں خاص طور پر دو لیجنڈری کھلاڑیوں، لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو پر جمی ہوں گی۔
ارجنٹائن کے لیونل میسی اور پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو اگر اپنی قومی ٹیموں کی نمائندگی کرتے ہیں تو وہ فٹبال کی تاریخ میں چھ مختلف ورلڈ کپ ایڈیشنز کھیلنے والے پہلے کھلاڑی بن جائیں گے۔ یہ ایک ایسا سنگ میل ہوگا جس تک اس سے قبل کوئی فٹبالر نہیں پہنچ سکا۔
میسی پہلے ہی ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ میچز کھیلنے، سب سے زیادہ منٹس میدان میں گزارنے اور بطور کپتان سب سے زیادہ مقابلوں میں شرکت کرنے جیسے اعزازات اپنے نام کر چکے ہیں، جن میں مزید اضافہ ہونے کا امکان موجود ہے۔
دوسری جانب رونالڈو ایک منفرد عالمی ریکارڈ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اگر وہ اس ٹورنامنٹ میں کوئی گول کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ چھ مختلف ورلڈ کپ ایڈیشنز میں گول اسکور کرنے والے دنیا کے پہلے فٹبالر بن جائیں گے۔
ورلڈ کپ کی تاریخ کے کامیاب ترین گول اسکورر جرمنی کے میروسلاو کلوزے ہیں جن کے نام 16 گولز کا ریکارڈ درج ہے۔ تاہم اس بار ارجنٹائن کے میسی اور فرانس کے کائلیان ایمباپے اس سنگ میل کے بڑے دعویدار سمجھے جا رہے ہیں۔ میسی کے ورلڈ کپ گولز کی تعداد 13 جبکہ ایمباپے 12 گول کر چکے ہیں۔
فرانس کے اسٹار فارورڈ کائلیان ایمباپے کے پاس بھی تاریخ رقم کرنے کا نادر موقع موجود ہے۔ اگر فرانس مسلسل تیسری مرتبہ فائنل میں جگہ بناتا ہے اور ایمباپے اس میچ میں گول کرتے ہیں تو وہ تین الگ الگ ورلڈ کپ فائنلز میں گول کرنے والے پہلے کھلاڑی بن جائیں گے۔
ٹیمی ریکارڈز کی دوڑ میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن بھی نمایاں ہے۔ اگر جنوبی امریکی ٹیم اپنا اعزاز برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ اٹلی اور برازیل کے بعد مسلسل دو ورلڈ کپ جیتنے والی تیسری ٹیم بن جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی 1962 کے بعد پہلی بار کوئی ٹیم اپنے عالمی ٹائٹل کا کامیاب دفاع کرے گی۔
پانچ مرتبہ کی عالمی چیمپئن برازیل بھی تاریخ میں ایک اور باب کا اضافہ کر سکتی ہے۔ اگر برازیل ٹرافی اپنے نام کر لیتا ہے تو اس کے عالمی اعزازات کی تعداد چھ ہو جائے گی، جو ورلڈ کپ کی تاریخ کا نیا بلند ترین ریکارڈ ہوگا۔ برازیل اس سال اپنی 23ویں ورلڈ کپ شرکت کے ساتھ پہلے ہی ایک منفرد اعزاز کا حامل ہے۔
فرانس مسلسل تیسری مرتبہ فائنل تک رسائی حاصل کر کے تاریخ کی تیسری ٹیم بن سکتا ہے جو یہ کارنامہ انجام دے۔ دوسری جانب انگلینڈ اور یوراگوئے بھی طویل عرصے بعد عالمی تاج دوبارہ حاصل کرنے کے خواب کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ انگلینڈ 1966 کے بعد جبکہ یوراگوئے 1950 کے بعد ایک اور عالمی ٹائٹل کی تلاش میں ہے۔
مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2026: رنگا رنگ تقریب کے ساتھ ٹورنامنٹ کا آغاز، افتتاحی میچ میں میکسیکو اور جنوبی افریقہ مدِمقابل
جرمنی کے پاس بھی ایک اہم ریکارڈ اپنے نام کرنے کا موقع موجود ہے۔ اگر جرمن ٹیم فائنل تک پہنچتی ہے تو یہ اس کی نویں ورلڈ کپ فائنل شرکت ہوگی، جو کسی بھی ملک کے لیے ایک نیا عالمی ریکارڈ بن جائے گا۔
ایک اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ 1998 میں فرانس کے بعد کوئی میزبان ملک ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ ایسے میں امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی نظریں بھی اپنے ہوم گراؤنڈ پر اس طویل انتظار کے خاتمے پر مرکوز ہوں گی۔
یوں فیفا ورلڈ کپ 2026 صرف ایک عالمی چیمپئن کے انتخاب کا مقابلہ نہیں بلکہ ایسے تاریخی لمحات کی آماجگاہ بھی بننے جا رہا ہے جو فٹبال کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔







