1994 کے ورلڈ کپ میں اُس وقت کے صدر بل کلنٹن نے افتتاحی میچ میں شرکت کی تھی، جبکہ 2018 میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور 2022 میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی بھی اپنے ملک کے افتتاحی مقابلوں میں موجود تھے۔ اس تناظر میں ٹرمپ کی غیر موجودگی غیر معمولی قرار دی جا رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ کار فیڈریکو ڈی جیسس کے مطابق ٹرمپ عموماً بڑے اور فیصلہ کن کھیلوں میں شرکت کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے بقول، ٹرمپ نے سپر باؤل اور دیگر بڑے فائنلز میں شرکت کی، اس لیے امکان ہے کہ وہ ورلڈ کپ کے فائنل میں بھی موجود ہوں۔

فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو پہلے ہی تصدیق کر چکے ہیں کہ ٹرمپ 19 جولائی کو نیو جرسی میں ہونے والے ورلڈ کپ فائنل میں شرکت اور ٹرافی پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس ورلڈ کپ ٹاسک فورس کے سربراہ اینڈریو گیولیانی نے بھی عندیہ دیا ہے کہ صدر فائنل سے پہلے بھی کسی میچ میں اچانک شرکت کر سکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ کا حالیہ شیڈول انتہائی مصروف رہا، جس میں جی-7 سربراہی اجلاس، خارجہ امور اور ایران سے متعلق سفارتی سرگرمیاں شامل تھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صدر نے امریکی ٹیم کے پہلے میچ سے قبل کھلاڑیوں سے فون پر بھی بات کی تھی۔

مزید پڑھیں: امریکہ 2038 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کا خواہشمند

دوسری جانب، ٹرمپ انتظامیہ کے کئی اعلیٰ عہدیدار ورلڈ کپ میچز میں شریک ہوتے رہے ہیں، جبکہ دوسری خاتون اوشا وانس نے بھی امریکا اور ترکی کے درمیان میچ میں وائٹ ہاؤس کی نمائندگی کی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ صدر ٹرمپ اب تک میدان میں نظر نہیں آئے، تاہم ان کی فائنل یا اس سے قبل کسی اہم میچ میں شرکت کے امکانات بدستور موجود ہیں۔