شین میکڈرموٹ، جو اس وقت آسٹریلیا میں موجود ہیں، ایک سال قبل پاکستان کی تمام فارمیٹس کی ٹیموں کے فیلڈنگ کوچ مقرر کیے گئے تھے۔ وہ ستمبر میں ہونے والے ایشین گیمز کے لیے بھی قومی ٹیم کے سپورٹ اسٹاف کا حصہ بننے والے تھے، تاہم انہوں نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
تاحال ان کے استعفے کی باضابطہ وجہ سامنے نہیں آئی، تاہم ذرائع کے مطابق ان کا فیصلہ پاکستان کے کرکٹ حلقوں کے لیے غیر متوقع تھا۔
ذرائع کا کہنا یے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ شین میکڈرموٹ کے بغیر اطلاع استعفی کے خلاف قانونی کارروائی کرے گا شین میکڈرموٹ کا یہ فیصلہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے تاہم ابھی تک پی سی بی نے اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے
شین میکڈرموٹ فیلڈنگ کوچنگ کے شعبے میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ اس سے قبل بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے ساتھ تین برس تک اسسٹنٹ فیلڈنگ کوچ جبکہ سری لنکا کی قومی ٹیم کے ساتھ بھی تین سال خدمات انجام دے چکے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ان کی پہلی اسائنمنٹ جولائی 2025 میں بنگلہ دیش کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز تھی، جہاں انہوں نے محمد مسرور کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں۔
پاکستانی ٹیم میں فیلڈنگ کے معیار کو بہتر بنانے کی روایت سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر کے دور میں قائم ہوئی تھی، جب اسٹیو رکسن کے ساتھ مل کر فٹنس اور فیلڈنگ پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اس دور میں پاکستان کی فیلڈنگ میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، تاہم 2018 میں رکسن کے جانے کے بعد یہ معیار برقرار نہ رہ سکا۔
بعد ازاں گرانٹ بریڈبرن، آفتاب خان، عبدالمجید اور محمد مسرور مختلف اوقات میں قومی ٹیم کے فیلڈنگ کوچ رہے۔
اگرچہ میکڈرموٹ کے دور میں پاکستان کی فیلڈنگ اسٹیو رکسن کے دور کی سطح تک نہیں پہنچ سکی، تاہم انہوں نے تربیتی سیشنز میں زیادہ شدت والے ڈرلز متعارف کرا کے فیلڈنگ کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کی اور کھلاڑیوں کی فٹنس و چستی پر خصوصی توجہ دی۔
مزید پڑھیں: لنکا پریمیئر لیگ کے آغاز سے قبل بڑا اسکینڈل سامنے آ گیا
پی سی بی نے تاحال شین میکڈرموٹ کے متبادل کا اعلان نہیں کیا ہے، جبکہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم رواں ہفتے ویسٹ انڈیز کے دورے پر روانہ ہونے والی ہے، جہاں وہ ایک ٹور میچ اور دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلے گی۔ ایسے میں نئے فیلڈنگ کوچ کی تقرری بورڈ کے لیے ایک اہم چیلنج ہوگی۔






