کیپ ورڈی کے 40 سالہ گول کیپر ووزینھا کی والدہ کو امریکا کا ویزا جاری کر دیا گیا ہے، اور وہ اب اپنے بیٹے کو ورلڈ کپ میں یوراگوئے کے خلاف اہم میچ کھیلتے ہوئے اسٹیڈیم سے دیکھ سکیں گی۔
ووزینھا نے اسپین کے خلاف 0-0 کے ڈرا کے بعد وہ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ تاہم میچ کے بعد وہ اس وقت جذباتی ہو گئے تھے جب انہوں نے بتایا کہ ان کے دادا دادی، جنہوں نے ان کی پرورش کی تھی، وفات پا چکے ہیں، اور ان کی والدہ مالی مشکلات اور ویزا مسائل کے باعث میچ دیکھنے امریکا نہیں آ سکیں۔
ان کے جذباتی ردعمل کے بعد یہ معاملہ وائرل ہوا، جس پر امریکی حکام نے نوٹس لیا اور بعد ازاں ویزا کی منظوری دے دی گئی۔ اب ووزینھا کی والدہ کیپ ورڈی کے دارالحکومت پرایا سے امریکا روانہ ہو چکی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپین کے خلاف شاندار کھیل کے بعد ووزینھا کی مقبولیت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور ان کے انسٹاگرام فالوورز ہزاروں سے بڑھ کر لاکھوں میں پہنچ گئے ہیں۔
تاہم گول کیپر نے اس تمام شہرت کے باوجود توجہ فٹبال پر رکھنے پر زور دیا ہے
مزید پڑھیں: فیفا ورلڈکپ: کیا دوسرے ممالک کی طرح سعودیہ کا پرچم بھی میدان میں بچھایا جاتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم چیز قومی ٹیم اور ورلڈ کپ میں کارکردگی ہے۔
کیپ ورڈی کی ٹیم اب اپنے دوسرے گروپ میچ میں یوراگوئے کا سامنا کرے گی، اور ٹیم کے کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ ووزینھا کی کہانی خوشی اور حوصلے کا باعث بنی ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ ورلڈ کپ کس طرح کھلاڑیوں کی زندگی بدل سکتا ہے۔







