یہ سماعت رواں ہفتے آئی سی سی کے میچ ریفری رچی رچرڈسن کی زیر صدارت ہوئی جس میں فاسٹ بولر حارث رؤف اور بیٹر صاحبزادہ فرحان نے اپنا موقف پیش کیا۔

ذرائع کے مطابق دوران سماعت میچ ریفری نے پاکستانی کھلاڑیوں سے جشن منانے کے انداز پر سوالات کیے تھے۔

صاحبزادہ فرحان نے موقف اختیار کیا کہ ان کی سیلیبریشن کا کسی بھی انڈین کھلاڑی یا ٹیم سے تعلق نہیں تھا بلکہ یہ ان کی پختون ثقافت کا حصہ ہے۔

میچ ریفری رچی رچرڈسن نے حارث رؤف سے سوال کیا کہ ان کے چھ صفر کے اشارے کا مطلب کیا تھا۔ اس پر حارث رؤف نے جواب دیا کہ میرے اشارے سے آپ لوگوں نے کیا مطلب لیا؟

ذرائع کے مطابق فاسٹ بولر نے مزید کہا کہ آپ یہ بتائیں کہ آپ کے خیال میں اس اشارے کا مطلب کیا تھا کیونکہ میرے خلاف الزامات کے کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

حارث رؤف کے سوال پر میچ ریفری خاموش ہو گئے۔ میچ ریفری نے کہا کہ ممکن ہے کہ یہ اشارہ کسی اور چیز کی طرف ہو۔ حارث رؤف نے اس پر کہا کہ پھر آپ بتائیں کہ میں کس طرف اشارہ کر رہا تھا۔

میچ ریفری نے دوبارہ پوچھا کہ آپ نے یہ اشارہ بار بار کیوں کیا؟ حارث رؤف نے جواب دیا کہ یہ صرف شائقین کرکٹ کے لیے تھا اور اس کا مقصد کسی بھی کھلاڑی یا ٹیم کو ہدف بنانا نہیں تھا۔

ذرائع کے مطابق سماعت کے دوران کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے الزامات کی تصدیق ہو سکے۔ ابھی تک پاکستان کرکٹ بورڈ یا آئی سی سی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔

واضع رہے کہ آئندہ چند روز میں فیصلے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔