شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ حالیہ عرصے میں قومی ٹیم کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کی پرفارمنس پہلے ہی تنقید کی زد میں تھی اور اس کے بعد بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں بھی پاکستان کو 2-1 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس شکست کے بعد کیے جانے والے فیصلوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سلیکشن کمیٹی واضح حکمت عملی کے بغیر کام کر رہی ہے، ٹیم کے انتخاب اور قیادت کے حوالے سے پالیسی میں تسلسل نظر نہیں آتا اور فیصلے جلد بازی میں کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض حلقوں کی جانب سے ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کو ’سرجری‘ کا نام دیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف کھلاڑیوں کو باہر بٹھا دینا کسی بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں، اگر واقعی کرکٹ میں بہتری لانا مقصود ہے تو اصل اصلاحات سلیکشن کمیٹی کے ڈھانچے اور اس کے طریقہ کار میں ہونی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ سینئر کھلاڑیوں کو نظر انداز کر دینا درست حکمت عملی نہیں، کیونکہ ان میں سے کئی کھلاڑیوں کی ون ڈے کرکٹ میں شاندار کارکردگی موجود رہی ہے،تجربہ کار کرکٹرز کو اچانک ٹیم سے باہر کرنا ٹیم کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے برعکس چند ایسے نوجوان کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے جنہوں نے ابھی ڈومیسٹک یا فرسٹ کلاس کرکٹ میں زیادہ میچز بھی نہیں کھیلے، جب ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار اور تسلسل اس سطح کا نہیں ہوگا تو نئے کھلاڑیوں کے لیے براہِ راست بین الاقوامی سطح پر خود کو ثابت کرنا آسان نہیں ہوگا۔
مزید پڑھیں: قومی ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کو مکمل اختیار ہے، دباؤ کی پرواہ کیے بغیر فیصلے کریں: محسن نقوی
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قومی ٹیم کی قیادت اور مختلف فارمیٹس کے لیے کھلاڑیوں کے انتخاب میں واضح حکمت عملی ہونی چاہیے،ہر فارمیٹ کی اپنی ضروریات ہوتی ہیں، اس لیے کپتان اور ٹیم کا انتخاب بھی اسی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ میں بہتری کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق اگر نظام کو مضبوط نہ کیا گیا تو ٹیم میں بار بار تبدیلیاں کرنے سے بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کے بہتر مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ سلیکشن کے عمل کو شفاف، منظم اور میرٹ پر مبنی بنایا جائے تاکہ قومی ٹیم مستقل مزاجی کے ساتھ بہتر نتائج دے سکے۔







