پریس کانفرنس میں حسام حسن نے تقریباً چار منٹ تک فلسطینی عوام کی صورتحال پر گفتگو کی، جس پر وہاں موجود متعدد صحافیوں نے تالیاں بجا کر ان کے مؤقف کا خیرمقدم کیا

مصری کوچ نے کہا، "اگر دنیا میں کوئی ایسا شخص ہے جو فلسطینی عوام کے دکھ کو محسوس نہیں کرتا، تو وہ انسان نہیں، خواہ وہ عرب ہو، یورپی ہو یا امریکی۔"

ایک صحافی کی جانب سےحسام حسن سے سوال کیا گیا کہ آسٹریلیا کے خلاف گزشتہ میچ میں فتح کے بعد فلسطینی پرچم لہرانے کے بعد اگر مصر ارجنٹائن کو بھی شکست دیتا ہے تو کیا وہ دوبارہ ایسا کریں گے؟

اس پر انہوں نے جواب دیا، "یہ محض ایک انسانی ردِعمل تھا۔ عرب، مسلمان یا عیسائی ہونے سے پہلے میں ایک انسان ہوں۔ میں فٹبال، جو دنیا کی نرم طاقت ہے، کے ذریعے صرف یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ فلسطینی عوام کو زندہ رہنے دیا جائے۔"

انہوں نے دنیا بھر کے کھلاڑیوں اور صحافیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ فلسطینی عوام کے حقِ زندگی اور امن کا پیغام دنیا تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

مزید پڑھیں: فیفا ورلڈکپ پری کوارٹر فائنل: اسپین نے پرتگال کو 0-1 سے شکست دیکر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا

حسام حسن اس سے قبل بھی آسٹریلیا کے خلاف کامیابی کے بعد فلسطینی پرچم لہرا کر فلسطینی عوام سے یکجہتی کا اظہار کر چکے ہیں، جس کے بعد ان کا یہ بیان عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔