ایسے مشکل وقت میں تجربہ کار بلے باز جو روٹ نے نہایت صبر، ذمہ داری اور شاندار تکنیک کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اینڈ سنبھالے رکھا۔ انہوں نے پہلے ول جیکس اور پھر گس اٹکنسن کے ساتھ اہم شراکتیں قائم کیں اور ٹیم کو کامیابی کے قریب پہنچایا۔ انگلینڈ کو جیت کے لیے آخری 3 رنز درکار تھے کہ گس اٹکنسن نے چوکا لگا کر میچ ختم کر دیا، جس کے باعث جو روٹ اپنی سنچری سے محض ایک رن کی دوری پر ناقابلِ شکست 99 رنز کے ساتھ واپس لوٹے۔

اس سے قبل بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 233 رنز بنائے۔ ویرات کوہلی 65 اور شریاس آئیر 66 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ ایک مرحلے پر بھارت کا اسکور 32ویں اوور میں 3 وکٹوں پر 178 رنز تھا اور بڑی اننگز کی توقع کی جا رہی تھی، تاہم جوفرا آرچر نے ویرات کوہلی کی اہم وکٹ حاصل کر کے میچ کا رخ موڑ دیا۔

کوہلی کے آؤٹ ہونے کے بعد انگلینڈ کے فاسٹ بولرز نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کی آخری 7 وکٹیں صرف 55 رنز پر حاصل کر لیں اور پوری ٹیم 233 رنز پر ڈھیر ہو گئی، جبکہ بھارتی اننگز کے 6 اوورز بھی استعمال نہ ہو سکے۔

انگلینڈ کی جانب سے جوفرا آرچر اور گس اٹکنسن نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ ثاقب محمود نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ بھارت کی جانب سے جسپریت بمراہ اور پرسدھ کرشنا نے ابتدائی کامیابیاں حاصل کر کے انگلینڈ کو دباؤ میں ضرور ڈالا، لیکن جو روٹ کی شاندار اننگز نے میزبان ٹیم کو فتح دلا دی۔

مزید پڑھیں: شکست کے بعد بیلنگھم کا ردعمل، بارکو کو تھپڑ جڑ دیا

اس کامیابی کے بعد تین میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر ہو گئی ہے، جبکہ فیصلہ کن تیسرا اور آخری ون ڈے اتوار کو تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا۔