ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اسلام آباد میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کے بعد کیا گیا، جس میں سیکیورٹی خدشات اور بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف کھیلوں میں منفی رویے پر تفصیلی غور کیا گیا، خاص طور پر حالیہ ایشیا کپ کے دوران بھارتی کرکٹ ٹیم کے برتاؤ کا حوالہ دیا گیا۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ فیڈریشن جلد ہی اپنے فیصلے سے ہاکی انڈیا کو باضابطہ طور پر آگاہ کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور پی ایچ ایف کھلاڑیوں کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، اسی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ٹیم کو بھارت نہیں بھیجا جائے گا۔
یہ بھی بتایا گیا کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل پاکستان اور بھارت کے درمیان میچز کے لیے غیر جانبدار مقامات فراہم کرتی ہے، مگر عالمی ہاکی تنظیم (ایف آئی ایچ) کی جانب سے ابھی تک ایسا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ پاکستان نے گزشتہ ماہ بھارت میں ہونے والا ایشیا کپ بھی نہیں کھیلا تھا، حالانکہ وہ ٹورنامنٹ آئندہ سال کے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائر تھا۔
دوسری جانب، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے انتخابات کا معاملہ بھی زیرِ غور آیا۔ اجلاس کی صدارت رکن قومی اسمبلی شیخ آفتاب احمد نے کی، جبکہ ذیلی کمیٹی کے کنوینر نے پی ایچ ایف کی کارکردگی پر رپورٹ پیش کی۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی ایچ ایف نے کلبوں کی جانچ پڑتال اور انتخابات کرانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ پی ایچ ایف کے سیکریٹری رانا مجاہد نے کہا کہ انتخابات اور کلبوں کی جانچ کا معاملہ 7 نومبر کو ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں رکھا جائے گا، جس کے بعد باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
کمیٹی نے ہدایت دی کہ انتخابی کمیشن پاکستان اسپورٹس بورڈ کی نمائندگی کے ساتھ تشکیل دیا جائے، اور کلبوں کی جانچ پڑتال بھی پی ایس بی کی مشاورت سے کی جائے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔







