اس نئے قانون کو ویسٹ پیک کیپ دی بال کا نام دیا گیا ہے، امریکا کی بیس بال روایت سے متاثر ہے، جہاں مداحوں کو میدان میں آنے والی گیند اپنے پاس رکھنے کی اجازت ہوتی ہے۔

مگر بگ بیش میں یہ سہولت صرف پہلے اوور تک محدود ہوگی۔ اگر کسی بلے باز کی شاٹ یا باؤنڈری کے نتیجے میں بال تماشائیوں کے پاس جا پہنچے، چاہے وہ اچھل کر ہی کیوں نہ گئی ہو تو خوش قسمت شائقین اسے یادگار کے طور پر رکھ سکیں گے۔

ہر میچ کے آغاز میں ایک ویسٹ پیک برانڈڈ گیند استعمال کی جائے گی، جو پہلے اوور کے بعد تبدیل کر کے معیاری کوکابورا بال سے کھیل جاری رکھا جائے گا۔ یہ تبدیلی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کھیل کے دوران بال کی حالت یا کارکردگی پر کوئی اثر نہ پڑے۔

کرکٹ آسٹریلیا کے ایگزیکٹو جنرل منیجر برائے بگ بیش لیگ السٹر ڈوبسن کے مطابق یہ اقدام مداحوں کو کھیل سے قریب تر کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ویسٹ پیک کیپ دی بال ہماری شائقین کے ساتھ وابستگی اور فیملی فرینڈلی ماحول پیدا کرنے کی ایک اور مثال ہے۔ یہ اقدام کھیل میں نیا جوش، رابطہ اور شائقین کے لیے ناقابلِ فراموش لمحات لائے گا۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سیزن میں مردوں کے مقابلوں میں ہر دو میچز میں اوسطاً ایک بار گیند تماشائیوں تک پہنچی، جب کہ خواتین کے مقابلوں میں یہ اوسط ہر دس میچز میں ایک بار رہی۔

واضح رہے کہ نیا قانون اس اتوار سے نافذ العمل ہوگا، جب ویمن بگ بیش لیگ میں برسبین ہیٹ اور میلبورن رینیگیڈز کے درمیان افتتاحی میچ کھیلا جائے گا۔

اسی کے ساتھ بگ بیش کے قواعد میں سست اوور ریٹ پر مزید سختی کی گئی ہے۔ اب ٹیموں کو مقررہ وقت میں اوورز مکمل نہ کرنے کی صورت میں فوری طور پر اضافی فیلڈر اندر لانا ہوگا، بصورتِ دیگر بقیہ گیندوں کے لیے مکمل پاور پلے کے قوانین نافذ ہو جائیں گے۔ یہ تمام اقدامات بگ بیش لیگ کو زیادہ تیز رفتار، دلچسپ اور خاندانوں کے لیے مزید پُرکشش بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔