بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، پرتگال سے تعلق رکھنے والے دنیائے فٹ بال کے عظیم کھلاڑی رونالڈو کا کیریئر ہمیشہ کامیابیوں سے بھرپور رہا ہے ، چاہے وہ ریکارڈ ٹرانسفر فیس پر ریال میڈرڈ میں شمولیت ہو، 940 گول کے ساتھ دنیا کے ٹاپ اسکورر بننا ہو یا اب میدان سے باہر دنیا کے پہلے کھرب پتی فٹبالر کا اعزاز حاصل کرنا ہو۔
مانچسٹر یونائیٹڈ اور یووینٹس جیسے یورپ کے بڑے کلبز کے ساتھ دو دہائیوں سے زائد عرصہ کھیلنے کے بعد 40 سالہ پرتگالی اسٹار نے اپنی شہرت سے بھرپور مالی فائدہ اٹھایا۔انھوں نے نائکی، ارمانی اور دیگر عالمی برانڈز کے اشتہارات کے ذریعے بھاری آمدن حاصل کی۔
اب اپنے کیریئر کے آخری مرحلے میں سعودی کلب النصر کے ساتھ جون میں کیے گئے چارسو ملین ڈالرز سے زائد مالیت کے معاہدے نے انھیں دنیا کے امیر ترین کھلاڑیوں میں شامل کر دیا ہے۔
بلومبرگ کے بلینئرز انڈیکس کے مطابق، رونالڈو کی مجموعی دولت ایک اعشاریہ چار بلین ڈالرز تک جا پہنچی ہے، جس کے نتیجے میں وہ فٹ بال کی تاریخ کے پہلے کھرب پتی بن گئے ہیں۔
یاد رہے کہ لیونل میسی اور رونالڈو طویل عرصے تک تقریباً یکساں معاوضہ لیتے رہے، لیکن 2023 میں رونالڈو نے خلیج کی جانب رخ کیا، جب کہ میسی نے امریکا کے انٹر میامی کلب میں شمولیت اختیار کی۔
ماہرین کے مطابق، میسی کو ریٹائرمنٹ کے بعد امریکی کلب میں ملکیتی حصہ ملنے کی توقع ہے، جو ممکنہ طور پر انھیں اپنے دیرینہ حریف کے برابر لا سکتا ہے۔
سعودی عرب کے نسبتاً غیر معروف کلب میں شمولیت پر رونالڈو کو ابتدا میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا، مگر اس ٹرانسفر نے انھیں فٹ بال تاریخ کے سب سے بڑے معاہدوں میں سے ایک دلایا۔ سعودی عرب میں آمدن پر ٹیکس نہ ہونے کی وجہ سے ان کے معاہدے میں ایکویٹی شیئر اور نجی جیٹ کے استعمال جیسی اضافی مراعات بھی شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، رونالڈو نے 2002 سے 2023 تک پانچ سو 50 ملین ڈالرز سے زائد تنخواہوں کی مد میں کمائے۔نائکی کے ساتھ دہائی پر مشتمل معاہدے سے وہ سالانہ تقریباً 18 ملین ڈالرز کماتے رہے، جب کہ ارمانی اور کاسٹرول جیسے برانڈز سے 175 ملین ڈالرز حاصل کیے۔
النصر کے ساتھ 2023 کے معاہدے نے انھیں ٹیکس فری سالانہ 200 ملین ڈالرز دلائے، جن میں 30 ملین ڈالرز کا سائننگ بونس بھی شامل ہے۔
کرسٹیانو رونالڈو نے واضح کیا ہے کہ انھیں فی الحال ریٹائرمنٹ کا کوئی ارادہ نہیں، وہ اپنے کیریئر میں ایک ہزار گول کا سنگ میل عبور کرنا چاہتے ہیں۔
.ان کا کہنا ہے کہ وہ النصر ہی میں ریٹائر ہونا چاہتے ہیں اور مستقبل میں ڈیوڈ بیکھم کی طرح کئی فٹ بال کلبز کے مالک بننے کا خواب رکھتے ہیں.







