الجزائر کے خلاف کھیلے گئے گروپ میچ میں ارجنٹائن نے 0-3 سے کامیابی حاصل کی، جس کے تمام گول لیونل میسی نے اسکور کیے۔ 38 سالہ اسٹار فٹبالر کی یہ کارکردگی ان کے شاندار کیریئر کے یادگار ترین لمحات میں شمار کی جا رہی ہے۔

یہ مقابلہ میسی کے بین الاقوامی کیریئر کا 200واں میچ تھا، جس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک اور تاریخی سنگ میل عبور کیا۔ وہ مردوں کے فٹبال کی تاریخ میں چھ مختلف ورلڈ کپ کھیلنے والے پہلے کھلاڑیوں میں شامل ہو گئے، جس کے بعد ان کا نام فٹبال کی تاریخ میں مزید نمایاں ہوگیا۔

میسی نے میچ کے پہلے ہاف میں پنالٹی ایریا کے باہر سے ایک شاندار شاٹ کے ذریعے گول اسکور کیا، جبکہ دوسرے ہاف میں مزید دو گول کرکے اپنی پہلی ورلڈ کپ ہیٹ ٹرک مکمل کی۔ اس کے ساتھ ہی یہ ان کے بین الاقوامی کیریئر کی 11ویں ہیٹ ٹرک بھی بن گئی۔

ورلڈ کپ میں اس شاندار کارکردگی کے بعد میسی کے مجموعی گولوں کی تعداد 16 ہوگئی، جس کے ذریعے انہوں نے جرمنی کے لیجنڈ اسٹرائیکر میروسلاو کلوزے کے ریکارڈ کی برابری کر لی۔  یہ کارنامہ میسی کے غیر معمولی تسلسل اور عالمی سطح پر ان کی برتری کا ثبوت ہے۔

میچ کے بعد ایک جذباتی منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب گولوں کا جشن مناتے ہوئے میسی کی آنکھوں میں آنسو نمایاں ہوگئے۔ اس حوالے سے سوال کیے جانے پر ارجنٹائنی کپتان نے کہا کہ ان جذبات کا تعلق فٹبال سے زیادہ ان کی ذاتی زندگی میں پیش آنے والے چند حالیہ واقعات سے تھا۔

لیونل میسی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عالمی ریکارڈ ہولڈرز اور عظیم کھلاڑیوں کے ساتھ اپنا نام دیکھنا یقیناً اعزاز کی بات ہے

 تاہم ان کے نزدیک سب سے اہم چیز ٹیم کی کامیابی اور ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ گزارے جانے والے لمحات ہیں۔

انہوں نے پرتگال کے اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو، جرمنی کے میروسلاو کلوزے اور دیگر عظیم کھلاڑیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ناموں کے ساتھ شمار ہونا کسی بھی کھلاڑی کے لیے باعثِ فخر ہوتا ہے، لیکن اصل خوشی اس سفر اور ان لمحات میں پوشیدہ ہے جو وہ اپنی ٹیم کے ساتھ گزار رہے ہیں۔

دوسری جانب ورلڈ کپ کے اسی روز فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے نے بھی سینیگال کے خلاف دو گول کرکے اپنی ٹیم کو کامیابی دلائی اور فرانس کی قومی ٹیم کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے۔ اسی طرح ناروے کے ارلنگ ہالینڈ نے بھی اپنے پہلے ورلڈ کپ میچ میں دو گول اسکور کرکے شائقین کو متاثر کیا۔

تاہم دن کے اختتام پر تمام تر توجہ ایک مرتبہ پھر لیونل میسی پر مرکوز رہی، جنہوں نے اپنی جادوئی کارکردگی، ریکارڈ ساز ہیٹ ٹرک اور جذباتی انداز سے ثابت کردیا کہ فٹبال کی نئی نسل کے ستاروں کے ابھرنے کے باوجود وہ آج بھی دنیا کے مقبول ترین اور بااثر فٹبالرز میں شامل ہیں۔

ارجنٹائن کے مڈفیلڈر روڈریگو ڈی پال نے میچ کے بعد کہا کہ میسی کی عظمت کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، میسی کبھی ذاتی ریکارڈز کے پیچھے نہیں بھاگتے بلکہ ہمیشہ ٹیم کی کامیابی کو ترجیح دیتے ہیں، یہی خوبی انہیں دیگر کھلاڑیوں سے ممتاز بناتی ہے۔

واضح ر ہے کہ ورلڈ کپ 2026 ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، لیکن لیونل میسی نے اپنی شاندار کارکردگی سے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بڑے مقابلوں میں روشنی اب بھی انہی پر آکر ٹھہرتی ہے۔