جمعرات کے روز گبا میں انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے آغاز میں ہی اسٹارک نے تباہ کن اسپیل کے دوران بین ڈکٹ، اولی پوپ اور ہیری بروک کو آؤٹ کیا، جس کے ساتھ ہی ان کی مجموعی وکٹوں کی تعداد 415 ہوگئی۔

اس سے قبل یہ اعزاز وسیم اکرم کے پاس تھا جنہوں نے 104 ٹیسٹ میں 414 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں لیفٹ آرم فاسٹ بولرز کی سب سے زیادہ وکٹیں مچل اسٹارک (آسٹریلیا) کی ہیں، جنہوں نے 102 ٹیسٹ میچز میں 415 وکٹیں حاصل کیں، ان کے بعد وسیم اکرم (پاکستان) ہیں، جنہوں نے 104 ٹیسٹ میچز میں  414 وکٹیں حاصل کیں۔

ان کے علاوہ 355 وکٹوں کے ساتھ  چمندا واس (سری لنکا)،  317 وکٹوں کے ساتھ ٹرینٹ بولٹ (نیوزی لینڈ) اور 313 وکٹوں کے ساتھ مچل جانسن ہیں۔

واضح رہے کہ اسٹارک نے بین ڈکٹ کو پہلی ہی اوور میں گولڈن ڈک پر آؤٹ کیا، جو ان کے کیریئر میں 26ویں بار اوور کی پہلی گیند پر وکٹ تھی۔ اولی پوپ کا شکار کرکے انہوں نے وسیم اکرم کا ریکارڈ برابر کیا اور ہیری بروک کی وکٹ نے انہیں نئی تاریخ کا مالک بنا دیا۔

مچل اسٹارک نے ڈے نائٹ ٹیسٹس میں اپنی بالادستی ایک بار پھر ثابت کردی۔ وہ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ 84 وکٹوں کے ساتھ پِنک بال ٹیسٹ کے کامیاب ترین بولر ہیں۔

گبا ٹیسٹ میں آسٹریلیا نے مکمل فاسٹ بولنگ اٹیک کے ساتھ میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا، جب کہ کپتان پیٹ کمنز بھی آرام کے باعث ٹیم کا حصہ نہیں۔

انگلینڈ کی جانب سے زیک کرالی نے 76 رنز کے ساتھ مزاحمت کی، جب کہ جو روٹ 88 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔ خبر فائل کرنے تک انگلینڈ نے 240 رنز پر 6 وکٹیں گنوا دی تھیں۔