انہوں نے کہا کہ میرا ریٹائرمنٹ کا فیصلہ حتمی ہے، اب اس پر کوئی نظرِ ثانی نہیں ہو گی۔ میرے فینز چاہتے ہیں کہ میں واپس آؤں، لیکن اب پاکستان کرکٹ کو آگے بڑھنا ہے۔
سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ ٹیم میں نوجوان کھلاڑی موجود ہیں، اگر یہی لڑکے تسلسل کے ساتھ کھیلتے رہے تو آئندہ دو تین سالوں میں ایک بہترین ٹیم تیار ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایشیا کپ کے فائنل تک پہنچے، امید ہے ورلڈکپ کا بھی فائنل کھیلیں اور جیتیں۔
محمد عامر نے سرفراز احمد کے ممکنہ چیف سلیکٹر بننے کی خبروں پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر سرفراز احمد کو چیف سلیکٹر نہیں بھی بنایا جاتا اور وہ سلیکشن کمیٹی کا حصہ بنتے ہیں تو یہ ایک مثبت فیصلہ ہوگا، کیونکہ وہ حالیہ کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل چکے ہیں، جس کا فائدہ سسٹم کو ہو سکتا ہے۔
انہوں نے سرفراز احمد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سرفراز ایماندار اور صاف دل کے انسان ہیں، ایسے لوگ پاکستان کرکٹ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔
سابق فاسٹ بولر نے کرکٹ بورڈ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کے امور چلانے کے لیے اچھے کرکٹرز کا ہونا ضروری ہے۔ شعیب ملک، عمر گل اور سہیل تنویر جیسے کھلاڑیوں کو وائٹ بال کرکٹ کے سسٹم میں شامل کیا جانا چاہیے، ان کے پاس وسیع تجربہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یونس خان جیسے کرکٹرز کو بھی سسٹم میں لانا چاہیے، وہ یَس مین نہیں ہیں بلکہ دیانتداری سے فیصلے کرتے ہیں۔ اب وقت ہے کہ سب مل بیٹھ کر پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے سوچا جائے۔







