تفصیلات کے مطابق نیلامی کی تقریب ایکسپو سینٹر لاہور میں منعقد ہوئی، جس میں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی اور قومی ٹیم کے سابق کپتان ظہیر عباس بھی موجود تھے۔

ملتان سلطانز کی بیس پرائز 182 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی، تاہم سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی کے باعث نیلامی کے دوران سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔

نیلامی کے عمل میں ولی ٹیک، سی ڈی وینچرز اور پارٹیکل ایگنیٹرز کے درمیان دلچسپ مقابلہ رہا۔ سی ڈی وینچرز نے ابتدا میں 215 کروڑ روپے کی بولی دی، جس کے بعد اسے 219 کروڑ تک بڑھایا گیا۔ اس کے جواب میں پارٹیکل ایگنیٹرز نے 230 کروڑ روپے کی بولی لگائی، جس پر ولی ٹیک نے 235 کروڑ روپے کی پیشکش کی۔ بعد ازاں سی ڈی وینچرز نے بولی 237 کروڑ روپے تک پہنچا دی۔

نیلامی کے آخری مرحلے میں مقابلہ مزید سخت ہو گیا، جب ولی ٹیک نے 245 کروڑ روپے کی حیران کن بولی لگا کر سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس مرحلے پر سی ڈی وینچرز نے دستبرداری کا فیصلہ کیا، جس کے بعد ملتان سلطانز ولی ٹیک کے نام ہو گئی۔

بولی کے عمل کے اختتام پر ولی ٹیک نے سب کو حیران کرتے ہوئے ٹیم کا نام اور شہر تبدیل کرنے کا اعلان کیا اور نئی ٹیم کو راولپنڈی کے نام سے متعارف کرا دیا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی جنوبی پنجاب کی ہر دلعزیز ٹیم ملتان سلطانز کا پی ایس ایل سفر  اختتام کو پہنچ گیا۔

واضح رہے کہ ملتان سلطانز پی ایس ایل کی نمایاں اور مقبول فرنچائزز میں شمار ہوتی تھی، جس کے باعث اس کے مالکانہ حقوق حاصل کرنے کے لیے بڈرز میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین کا بیان بھی سامنے آیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ جنوبی پنجاب کی نمائندگی کے لیے بڈ میں حصہ لیں گے، تاہم یہ ضروری نہیں تھا کہ وہ ہر صورت فرنچائز خریدیں۔