تفصیلات کے مطابق نیلامی کی تقریب ایکسپو سینٹر لاہور میں منعقد ہوئی، جس میں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی اور قومی ٹیم کے سابق کپتان ظہیر عباس بھی موجود تھے۔
ملتان سلطانز کی بیس پرائز 182 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی، تاہم سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی کے باعث نیلامی کے دوران سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔
🚨 MOST EXPENSIVE TEAM IN HBL PSL HISTORY 🚨
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) February 9, 2026
Team Multan is sold for a record PKR 2️⃣4️⃣5️⃣ crore 🥳
Watch LIVE: https://t.co/qoi3S0Ynkt #HBLPSL | #NewEra pic.twitter.com/xoVDEply1T
نیلامی کے عمل میں ولی ٹیک، سی ڈی وینچرز اور پارٹیکل ایگنیٹرز کے درمیان دلچسپ مقابلہ رہا۔ سی ڈی وینچرز نے ابتدا میں 215 کروڑ روپے کی بولی دی، جس کے بعد اسے 219 کروڑ تک بڑھایا گیا۔ اس کے جواب میں پارٹیکل ایگنیٹرز نے 230 کروڑ روپے کی بولی لگائی، جس پر ولی ٹیک نے 235 کروڑ روپے کی پیشکش کی۔ بعد ازاں سی ڈی وینچرز نے بولی 237 کروڑ روپے تک پہنچا دی۔
نیلامی کے آخری مرحلے میں مقابلہ مزید سخت ہو گیا، جب ولی ٹیک نے 245 کروڑ روپے کی حیران کن بولی لگا کر سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس مرحلے پر سی ڈی وینچرز نے دستبرداری کا فیصلہ کیا، جس کے بعد ملتان سلطانز ولی ٹیک کے نام ہو گئی۔
LIVE - HBL PSL Team Auction 2026 - Multan Team#HBLPSL | #NewEra https://t.co/YJXG9rBixa
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) February 9, 2026
بولی کے عمل کے اختتام پر ولی ٹیک نے سب کو حیران کرتے ہوئے ٹیم کا نام اور شہر تبدیل کرنے کا اعلان کیا اور نئی ٹیم کو راولپنڈی کے نام سے متعارف کرا دیا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی جنوبی پنجاب کی ہر دلعزیز ٹیم ملتان سلطانز کا پی ایس ایل سفر اختتام کو پہنچ گیا۔
واضح رہے کہ ملتان سلطانز پی ایس ایل کی نمایاں اور مقبول فرنچائزز میں شمار ہوتی تھی، جس کے باعث اس کے مالکانہ حقوق حاصل کرنے کے لیے بڈرز میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین کا بیان بھی سامنے آیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ جنوبی پنجاب کی نمائندگی کے لیے بڈ میں حصہ لیں گے، تاہم یہ ضروری نہیں تھا کہ وہ ہر صورت فرنچائز خریدیں۔







