جمعرات کو پی سی بی کے نوٹس کے جواب میں ملتان سلطانز نے کہا کہ انہیں قانونی نوٹس بھیج کر مطالبہ کیا گیا تھا کہ علی ترین اپنے حالیہ بیانات واپس لیں اور پی ایس ایل انتظامیہ سے عوامی طور پر معافی مانگیں۔

ملتان سلطانز کے مطابق پی سی بی نے دھمکی دی کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو فرنچائز کا معاہدہ منسوخ کر دیا جائے گا اور علی ترین کو تاحیات کسی بھی کرکٹ ٹیم کی ملکیت سے روک دیا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے بیان میں ملتان سلطانز نے کہا کہ علی ترین نے ٹیم سنبھالنے کے بعد اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی اور ذاتی طور پر سات ارب روپے سے زائد کا نقصان برداشت کیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ علی ترین نے اکیڈمیاں قائم کر کے ملک بھر میں نوجوان کرکٹرز کے لیے مواقع پیدا کیے، اور ان کے تمام بیانات پی ایس ایل کی بہتری کے لیے دیے گئے تاکہ لیگ مزید مضبوط اور پیشہ ورانہ انداز اختیار کرے۔

فرنچائز نے اپنے جواب میں کہا کہ پی سی بی انتظامیہ کا تعمیری تنقید کو جرم سمجھنا قابلِ افسوس ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ موجودہ انتظامیہ سوالات یا جوابدہی کے لیے تیار نہیں۔ ملتان سلطانز کے مطابق پی ایس ایل انتظامیہ اُن لوگوں کی رائے بھی سننے سے گریزاں ہے جنہوں نے لیگ کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دیانتدارانہ تنقید کو دبانے سے کسی لیگ کو کامیاب نہیں بنایا جا سکتا۔

ملتان سلطانز نے مؤقف اپنایا کہ علی ترین کی پاکستان کرکٹ سے وابستگی مضبوط ہے اور ان کا مقصد صرف پی ایس ایل کو اس معیار تک پہنچانا ہے جو کھلاڑیوں اور شائقین کا حق ہے۔

قبل ازیں علی ترین نے اپنی تنقید میں کہا تھا کہ پی ایس ایل کی موجودہ منیجمنٹ غیرسنجیدہ ہے، اور بار بار "سب سے بڑی پی ایس ایل" جیسے دعوے صرف دکھاوے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق فرنچائزز کو طویل المدتی کنٹرول نہیں دیا جا رہا، اور نئی ٹیموں کے اضافے سے قبل واضح پالیسی ضروری ہے ورنہ لیگ کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ لیگ فی الحال ’رینٹل ماڈل‘ پر چل رہی ہے، جس میں ٹیم مالکان حقیقی معنوں میں مالک نہیں بلکہ کرایہ دار ہیں، کیونکہ ہر سال ٹیم رکھنے کے لیے فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔

پی سی بی نے معاہدے کی خلاف ورزی اور پی ایس ایل کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے الزامات پر ملتان سلطانز کو نوٹس جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ علی ترین نے مختلف انٹرویوز اور پوڈکاسٹس میں لیگ پر تنقید کر کے معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی کی ہے۔