زمبابوے کرکٹ کے مطابق آل راؤنڈر شان ولیمز نے خود کو قومی ٹیم کے انتخاب کے لیے دستیاب نہیں کرایا اور بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ اب انہیں دوبارہ قومی اسکواڈ کے لیے منتخب نہیں کیا جائے گا۔
بورڈ کے بیان میں کہا گیا کہ ستمبر میں ہرارے میں ہونے والے ورلڈ کپ کوالیفائر سے قبل وہ ٹی20 ٹیم سے دستبردار ہوگئے تھے، جس کے بعد داخلی تحقیقات میں انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ منشیات کی لت میں مبتلا ہیں اور اپنی مرضی سے بحالی مرکز میں داخل ہوئے ہیں۔
زمبابوے کرکٹ نے کہا کہ تفصیلی غور کے بعد یہ طے کیا گیا ہے کہ ولیمز کو آئندہ قومی انتخاب کے لیے زیرِ غور نہیں لایا جائے گا۔
بورڈ کے مطابق، ولیمز کے کیریئر کا ریکارڈ تادیبی مسائل اور بار بار عدم دستیابی سے متاثر رہا، جس نے ٹیم کی تیاریوں اور کارکردگی پر منفی اثر ڈالا۔
بورڈ کے مطابق، زمبابوے کرکٹ کی پالیسی تمام کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں سے پیشہ ورانہ نظم و ضبط، ٹیم پروٹوکولز اور اینٹی ڈوپنگ قوانین کی مکمل پاسداری کا تقاضا کرتی ہے۔
بورڈ نے کہا کہ اگرچہ وہ بحالی کی کوششوں کو سراہتے ہیں، لیکن ایسے حالات میں ٹیم سے کنارہ کشی، جن میں ممکنہ جانچ شامل ہو، پیشہ ورانہ اور اخلاقی اصولوں پر سوال اٹھاتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ 31 دسمبر کو ان کا قومی معاہدہ ختم ہونے کے بعد اسے برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔
بورڈ کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود، زمبابوے کرکٹ شان ولیمز کی خدمات کو سراہتی ہے،گزشتہ دو دہائیوں کے دوران انہوں نے زمبابوے کرکٹ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں، میدان کے اندر اور باہر دونوں جگہ ان کی میراث ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
زمبابوے کرکٹ بورڈ نے آخر میں ولیمز کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی صحت یابی اور مستقبل کی کامیابیوں کے لیے دعاگو ہیں۔
دوسری جانب شان ولیمز نے تاحال زمبابوے کرکٹ کے اس فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
39 سالہ شان ولیمز نے زمبابوے کی نمائندگی کرتے ہوئے تینوں فارمیٹس میں مجموعی طور پر 9 ہزار کے قریب رنز اسکور کیے اور 150 سے زائد وکٹیں حاصل کیں۔







