ڈیلاس میں کھیلے گئے آخری 32 مرحلے کے مقابلے میں مصر نے آسٹریلیا کو پنالٹی شوٹ آؤٹ پر 4-2 سے شکست دے کر اپنی تاریخ میں پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی حاصل کی۔ میچ کے بعد حسام حسن مصر اور فلسطین کے پرچم میدان میں لے کر آئے، جبکہ پوری ٹیم نے سجدۂ شکر ادا کیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حسام حسن نے کہا، "اللہ فلسطینی عوام کو کامیابی عطا فرمائے اور ان کے شہداء پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ میں یہ فتح مصری عوام اور فلسطینی عوام کے نام کرتا ہوں۔"

اس بیان کے بعد غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں سے تعلق رکھنے والے متعدد فٹبال شائقین نے سوشل میڈیا پر مصر کی فتح کا خیرمقدم کیا۔ غزہ کے ایک صارف نے لکھا کہ "پہلی بار میں اتنے جوش و خروش کے ساتھ ورلڈ کپ دیکھ رہا ہوں۔"

فلسطینی فٹبال گزشتہ برسوں کے دوران شدید مشکلات سے دوچار رہا ہے۔ غزہ میں جاری تنازعات کے باعث کئی اسٹیڈیم اور کھیلوں کی سہولیات کو نقصان پہنچا، متعدد مقامی مقابلے متاثر ہوئے اور بہت سے کھلاڑیوں اور کوچز کی تربیت اور سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئیں۔ ان حالات نے نوجوان فٹبالرز کے لیے کھیل جاری رکھنا انتہائی مشکل بنا دیا۔

اس کے باوجود فلسطینی فٹبالرز اور شائقین نے کھیل سے اپنی وابستگی برقرار رکھی ہے۔ محدود وسائل اور دشوار حالات کے باوجود مقامی سطح پر فٹبال کی سرگرمیاں جہاں ممکن ہو، جاری رکھنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، جبکہ فلسطینی قومی ٹیم بھی مختلف مواقع پر بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کرتی رہی ہے۔

کھیلوں کے مبصرین کا کہنا ہے کہ مصر کے کوچ کی جانب سے فلسطینی عوام کے نام فتح منسوب کرنا صرف ایک علامتی اظہار نہیں بلکہ اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ مشکل حالات میں کھیل لوگوں کے لیے امید، حوصلے اور یکجہتی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:  رونالڈو کا نیا ریکارڈ: پرتگال نے کروشیا کو 2-1 سے ہرا دیا

مصر اب ورلڈ کپ کے اگلے مرحلے میں پہنچ چکا ہے، لیکن اس فتح کے بعد حسام حسن کا پیغام اور فلسطینی پرچم کے ساتھ ان کی موجودگی بھی اس کامیابی کی ایک نمایاں تصویر بن گئی، جس پر عرب دنیا میں بڑے پیمانے پر ردِعمل دیکھنے میں آیا۔