میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر غلینوئی کا کہنا تھا کہ میزبان ملک نے ایران کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران کو دو ہفتے پہلے امریکہ آنے کی اجازت دی جاتی تو ٹیم کو بہتر تیاری کا موقع ملتا اور کھلاڑی جسمانی و ذہنی طور پر زیادہ بہتر حالت میں ہوتے۔
یہ پابندیاں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدہ تعلقات کے تناظر میں نافذ کی گئی تھیں۔ مارچ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کو ٹورنامنٹ میں شرکت کی اجازت تو ہوگی، تاہم سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ٹیم کو میچوں کے درمیان امریکہ میں قیام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مصر کے خلاف میچ میں ایران کو انجری ٹائم میں شجاع خلیل زادہ کے گول کے ذریعے برتری حاصل ہوتی دکھائی دی، تاہم وی اے آر جائزے کے بعد آف سائیڈ قرار دیتے ہوئے گول مسترد کر دیا گیا، جس سے ایرانی شائقین کی خوشی مایوسی میں بدل گئی۔
امیر غلینوئی نے کہا کہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی ٹیم نہ صرف مشکلات کا شکار رہی بلکہ بدقسمتی نے بھی اس کا ساتھ نہیں دیا۔ انہوں نے فیفا سے مطالبہ کیا کہ آئندہ ورلڈ کپ میں میزبان ممالک کو کسی بھی ٹیم کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
ایرانی کوچ نے مزید بتایا کہ میچ کے بعد ٹیم کو دوبارہ میکسیکو کے شہر تیخوانا واپس جانا پڑا، جس سے کھلاڑیوں کی بحالی کا عمل بھی متاثر ہوا۔
مزید پڑھیں: بلباؤ سے ورلڈ کپ تک، دو بھائیوں کا منفرد سفر
انہوں نے کہا کہ ٹیم ایک واضح مقصد کے ساتھ ورلڈ کپ میں آئی ہے اور اگر ایران ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کرتا ہے تو کھلاڑیوں کو ذہنی اور جسمانی تازگی کے لیے ایک دن کا آرام دیا جائے گا۔ ایران اب میکسیکو میں دیگر گروپ میچوں کے نتائج کا انتظار کر رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ وہ اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنا پاتا ہے یا نہیں۔







