رپورٹس کے مطابق، انگلینڈ کے خلاف گھانا کو نہ ملنے والی پنالٹی، برازیل کے خلاف اسکاٹ لینڈ کا منسوخ کیا گیا گول اور جرمنی کے میچ میں متنازع فیصلوں نے ویڈیو اسسٹنٹ ریفری کے معیار اور اس کے استعمال پر بحث کو تیز کر دیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، ورلڈ کپ میں وی اے آر  کی مداخلت کی شرح تقریباً اتنی ہی ہے جتنی گزشتہ سیزن کی پریمیئر لیگ میں تھی، تاہم مختلف نوعیت کے فیصلوں میں عدم تسلسل پر تنقید کی جا رہی ہے۔

فیفا کے ریفریز کمیٹی کے سربراہ پیئرلوگی کولینا کا کہنا ہے کہ فٹ بال ایک جسمانی رابطے کا کھیل ہے اور ہر جسمانی رابطہ فاؤل نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق، ورلڈ کپ میں کھیل کا بہاؤ برقرار رکھنے اور غیر ضروری مداخلت سے گریز کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔

گھانا کے کوچ کارلوس کیئروش نے انگلینڈ کے خلاف پنالٹی نہ ملنے پر طنزیہ انداز میں کہا کہ "ویڈیو اسٹنٹ ریفری کافی پینے چلا گیا تھا"، جبکہ سابق ریفریز اور ماہرین نے بھی بعض فیصلوں کو حیران کن قرار دیا۔

مزید پڑھیں: مصر سے ڈرا کے بعد ایرانی کوچ کی امریکہ پر شدید تنقید

ادھر جرمنی اور ایکواڈور کے میچ میں جرمن کھلاڑی کے اونچے بوٹ پر وی اے آر  کی خاموشی اور بعد ازاں جرمنی کی پنالٹی منسوخ کیے جانے کے فیصلے کو بھی متضاد قرار دیا گیا۔
فٹ بال مبصرین کا کہنا ہے کہ "کم سے کم مداخلت، زیادہ سے زیادہ فائدہ" کا اصول برقرار رکھنا آسان نہیں، اور ورلڈ کپ کے دوران مختلف فیصلوں نے وی اے آر کے اطلاق میں مستقل مزاجی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔