دبئی میں پریس کانفرنس کے دوران کپتان سلمان علی آغا نے کہا کہ بھارتی ٹیم نے ٹرافی وصول نہ کر کے دراصل کرکٹ کی توہین کی، ہماری نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم نے بیٹنگ اور بولنگ میں اچھا آغاز کیا لیکن اختتام بہتر نہ ہو سکا۔”

انہوں نے انڈین کھلاڑیوں کی جانب سے ہاتھ نہ ملانے کو بھی کھیل کے لیے شرمندگی کا باعث قرار دیا۔ سلمان علی آغا نے تسلیم کیا کہ انڈیا کے خلاف کارکردگی اچھی نہیں رہی، لیکن کہا کہ یہ ان کا دور چل رہا ہے جیسے 90 کی دہائی میں پاکستان کا دور تھا، “ہمارا وقت دوبارہ آئے گا۔”

حارث رؤف کی پرفارمنس پر سوال کے جواب میں کپتان نے کہا کہ کسی ایک کھلاڑی سے جیت یا ہار منسوب نہیں کی جا سکتی، “وہ ہمارے بہترین بولر ہیں، ایک دن برا ہو جانا بدقسمتی ہے۔”

بابر اعظم اور رضوان کی غیر موجودگی پر انہوں نے کہا کہ یہ ٹیم ہی ہے جس نے کئی حریفوں کو شکست دی، “ہم بطور ٹیم کھیلتے ہیں اور کسی ایک کھلاڑی کو مس نہیں کرتے۔”

دوسری جانب پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ بھارت کے لیے فخر کا معیار ہے تو تاریخ پاکستان کے ہاتھوں اس کی ذلت آمیز شکست یاد رکھے گی۔

مودی نے فائنل جیتنے کے بعد ایکس پر “آپریشن سندور” کا حوالہ دیتے ہوئے متنازع پوسٹ کی تھی۔ محسن نقوی نے کہا، “کھیل میں جنگ کو گھسیٹنا مایوسی کی علامت ہے اور کھیل کی روح کو مجروح کرتا ہے۔”