موجودہ سینٹرل کنٹریکٹس کا مالیاتی ماڈل 30 جون کو ختم ہو رہا ہے، جس کے بعد یکم جولائی سے نئے کنٹریکٹس کا اطلاق ہوگا۔ نئے معاہدوں کے حوالے سے مشاورت کا عمل جاری ہے اور کھلاڑیوں کی کارکردگی، فٹنس اور ٹیم میں مسلسل شمولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

 نئے سینٹرل کنٹریکٹس کی حتمی منظوری پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی دیں گے، جبکہ سلیکشن کمیٹی اور ٹیم مینجمنٹ کی سفارشات بھی اہم کردار ادا کریں گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض تجربہ کار اور سینئر کھلاڑیوں کے کنٹریکٹس خطرے میں پڑ گئے ہیں، محمد نواز، عبداللہ شفیق، فہیم اشرف، حسین طلعت اور خوشدل شاہ جیسے کھلاڑیوں کے نئے سینٹرل کنٹریکٹس میں برقرار رہنے کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔

کرکٹ حلقوں کے مطابق ان کھلاڑیوں کی حالیہ فارم، فٹنس اور قومی ٹیم میں غیر مستقل کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

دوسری جانب ڈومیسٹک کرکٹ اور پاکستان شاہینز کی جانب سے شاندار کارکردگی دکھانے والے نوجوان کرکٹرز کو انعام ملنے کا امکان ہے۔

اذان اویس اور عبداللہ فضل جیسے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے نام سنجیدگی سے زیر غور ہیں، جبکہ مزید نوجوان کرکٹرز کو بھی پہلی مرتبہ سینٹرل کنٹریکٹ دیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 پی سی بی مستقبل کی ٹیم بنانے کے لیے نوجوان اور مستقل مزاج کھلاڑیوں پر توجہ دے رہا ہے تاکہ قومی ٹیم میں نئی توانائی اور مقابلے کا رجحان پیدا کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق صرف نئے نام شامل ہونے کا امکان ہی نہیں بلکہ موجودہ کھلاڑیوں کی کیٹیگریز میں بھی نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔

بعض کھلاڑیوں کو بہتر کارکردگی کی بنیاد پر ترقی دی جا سکتی ہے، جبکہ مسلسل خراب فارم یا فٹنس مسائل کا شکار کھلاڑیوں کو تنزلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا کا دورہ پاکستان: 3 ون ڈے میچز کی سیریز کے لیے میچ آفیشلز کا اعلان

گزشتہ سال 30 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹس دیے گئے تھے، تاہم پہلی مرتبہ اے کیٹیگری خالی رکھی گئی تھی، جس نے اس وقت بھی کرکٹ حلقوں میں کافی بحث چھیڑ دی تھی۔

یاد رہے کہ سابق چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف کے دور میں 2023 میں تین سالہ مالیاتی ماڈل متعارف کرایا گیا تھا، جس کے تحت قومی کرکٹرز کی تنخواہوں اور مراعات میں نمایاں اضافہ کیا گیا تھا۔

موجودہ انتظامیہ نے اس ماڈل میں بنیادی تبدیلیاں تو نہیں کیں، تاہم اب نئے مالیاتی ڈھانچے میں کچھ اہم ترامیم اور نئی شرائط شامل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے معاہدوں میں فٹنس، ڈسپلن، قومی اور ڈومیسٹک کارکردگی کو پہلے سے زیادہ اہمیت دی جائے گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے نئے سینٹرل کنٹریکٹس اور کیٹیگریز کو جلد حتمی شکل دیے جانے کی توقع ہے، جبکہ آئندہ چند ہفتوں میں باضابطہ اعلان بھی متوقع ہے۔

کرکٹ شائقین کی نظریں اب اس بات پر لگی ہوئی ہیں کہ کون سے کھلاڑی اپنی جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور کن نئے چہروں کو قومی سطح پر بڑا موقع ملتا ہے۔