یہ میچز شہر میں نصب 55 انچ کے ڈیجیٹل اسکرینز پر دکھائے جائیں گے، جو عموماً اشتہارات اور عوامی معلومات کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ میئر کے مطابق اس اقدام کا مقصد کھیلوں کو زیادہ قابلِ رسائی بنانا ہے۔
ممدانی نے اس سے قبل این بی اے فائنلز کے دو میچز بھی انہی اسکرینز پر دکھانے کا انتظام کیا تھا تاکہ وہ افراد بھی کھیل دیکھ سکیں جو براہِ راست نشریات تک رسائی نہیں رکھتے.
بین الاقوامی جریدے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر کے موجودہ انفراسٹرکچر کو عوامی فائدے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ کھیل صرف مخصوص طبقے تک محدود نہ رہیں۔
ورلڈ کپ کی میزبانی امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر کر رہے ہیں، تاہم ٹکٹوں کی بلند قیمتوں کے باعث عام شائقین کے لیے اسٹیڈیم میں میچ دیکھنا مشکل ہو گیا ہے، بعض ٹکٹوں کی قیمت 1000 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر میئر آفس نے نیو یارک نیو جرسی ہوسٹ کمیٹی کے ساتھ مل کر 1000 سستے ٹکٹس بھی فراہم کیے ہیں، جو 50 ڈالر فی ٹکٹ کے حساب سے دستیاب ہوں گے، جبکہ شہریوں کے لیے مفت بس سروس بھی دی جائے گی۔
اس کے علاوہ شہر نے ورلڈ کپ کے لیے نیو یارک تھیم پر مبنی سستی فٹبال جرسیوں کا اجرا بھی کیا ہے، جن کی قیمت تقریباً 50 ڈالر رکھی گئی ہے۔ ابتدائی 1500 جرسیوں کا اسٹاک جلد فروخت ہو گیا ہے اور مزید کی تیاریجاری ہے۔
مزید پڑھیں: ہالینڈ کا انوکھا انداز،روپ بدل کر نیویارک گھومنے میں مصروف
تاہم میئر کے ان اقدامات پر کچھ حلقوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی ہے، خاص طور پر سکیورٹی انتظامات اور عوامی جگہوں کے استعمال پر اختلافات پائے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدامات کھیلوں کو عوام کے قریب لانے کی ایک کوشش ہیں، جو شہریوں میں کافی مقبول ہو سکتے ہیں۔







