راولپنڈی میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے ہدف کے تعاقب میں شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ مڈل آرڈر اسٹار بابر اعظم نے 806 دن کے طویل وقفے کے بعد ایک بار پھر سنچری اسکور کرتے ہوئے نہ صرف فارم میں واپسی کا اعلان کیا بلکہ ٹیم کی فتح میں فیصلہ کُن کردار بھی ادا کیا۔ بابر اعظم 119 گیندوں پر 102 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیل کر میدان سے ناٹ آؤٹ واپس لوٹے۔ وکٹ کیپر محمد رضوان نے بھی ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 51 رنز بنا کر اُن کا بھرپور ساتھ دیا۔

اس سے قبل فخر زمان اور صائم ایوب نے پاکستان کو پراعتماد آغاز فراہم کیا۔ فخر زمان نے 78 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جب کہ صائم ایوب 33 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

 سری لنکا کی جانب سے دونوں وکٹیں دشمانتھا چمیرا نے حاصل کیں۔

اس سے قبل سری لنکا نے بیٹنگ کرتے ہوئے پاتھم نسانکا اور کامل مشرا کی جوڑی کے ذریعے ٹھوس ابتدا فراہم کی۔ نسانکا 24 رنز پر رن آؤٹ ہوئے جب کہ کامل مشرا 27 رنز بنا کر ابرار احمد کی گیند پر محمد رضوان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

کپتان کوسل مینڈس بھی زیادہ دیر کریز پر نہ رک سکے اور 20 رنز بنانے کے بعد ابرار احمد کی گیند پر محمد نواز کے ہاتھ کیچ دے بیٹھے۔ سدیرا سماراوکراما نے قدرے مزاحمت کرتے ہوئے 42 رنز اسکور کیے لیکن وہ حارث رؤف کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

چارتھ اسالنکا صرف چھ رنز بنا سکے اور ابرار احمد کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو قرار پائے۔ آخر میں انندو ہاسارنگا نے 37 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیل کر مجموعہ بہتر بنانے کی کوشش کی۔

پاکستان کی بولنگ لائن نے نپی تلی گیندبازی کا شاندار مظاہرہ کیا۔ ابرار احمد اور حارث رؤف نے تین، تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جب کہ محمد وسیم جونیئر نے ایک وکٹ حاصل کی۔

واضح رہے کہ کپتان شاہین شاہ آفریدی فلو کے باعث میچ کا حصہ نہیں بن سکے، جس کے بعد قیادت سلمان علی آغا نے سنبھالی۔ اُن کی جگہ محمد وسیم جونیئر کو شامل کیا گیا جب کہ فہیم اشرف کی جگہ اسپنر ابرار احمد کی ٹیم میں واپسی ہوئی۔

واضح رہے کہ یہ مقابلہ گزشتہ 48 گھنٹوں کی غیر یقینی صورتحال کے بعد ہو ا، جب اسلام آباد میں دہشت گردانہ حملے کے باعث سری لنکن کیمپ میں تحفظات پیدا ہوئے اور شیڈول متاثر ہوا۔

خدشات کے باوجود پاکستان کے وزیر داخلہ اور پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے سیکیورٹی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران مہمان ٹیم کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد سری لنکن بورڈ نے دورہ جاری رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔

سری لنکن ٹیم کے منیجر نے کھلاڑیوں کے ممکنہ وطن واپسی کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسکواڈ میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔