غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے روم میں فیڈریشن کے ہیڈکوارٹر میں ہونے والے ایک اجلاس کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب اٹلی کے وزیر کھیل اینڈریا ابودی نے ایک روز قبل ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔
چار مرتبہ کی عالمی چیمپئن اٹلی کی ٹیم پلے آف مرحلے میں بوسنیا کے خلاف پنالٹی شوٹ آؤٹ میں شکست کے بعد ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی نہ کر سکی۔ یہ مسلسل تیسری بار ہے کہ اٹلی عالمی کپ سے باہر ہو گئی ہے، جسے ملک کی فٹبال تاریخ میں ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ جینارو گیٹوسو کے مستقبل سے متعلق بھی غیر یقینی صورتحال پائی جا رہی ہے اور ان کے مستعفی ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ سابق معروف گول کیپر اور ٹیم کے جنرل منیجر جیان لُوئیجی بوفون پہلے ہی اپنا عہدہ چھوڑ چکے ہیں۔
یورپی فٹبال تنظیم کے صدر الیکساندر چیفرین نے بھی اٹلی کے اسٹیڈیمز کے انفراسٹرکچر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو 2032 کی یورپی چیمپئن شپ کی میزبانی واپس لی جا سکتی ہے۔
گبریئل گراوینا 2018 میں اٹالین فٹبال فیڈریشن کے صدر منتخب ہوئے تھے، تاہم حالیہ ناکامیوں اور ٹیم کی گرتی کارکردگی کے باعث انہیں اپنے عہدے سے دستبردار ہونا پڑا۔







